بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 شعبان 1441ھ- 07 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

ٹایپسٹ کے لیے سودی معاہدہ لکھنے کا حکم


سوال

 میں ایک ٹائپسٹ Typist ہوں اور میں ایک عوامی جگہ پر لوگوں کی دستاویزات ٹائپ کرتا ہوں، بعض اوقات بینک سے متعلق دستاویزات ٹائپ کرنے پڑتے ہیں، جس میں کہیں نہ کہیں سود کا ذکر بھی آجاتا ہے۔ تو کیا اس طرح ٹائپ کرنے میں مدد کی وجہ سے میں بھی سود خواروں میں شامل سمجھا جاؤں گا؟ اگر ہاں تو پھر جتنے بھی دستاویزات میں نے آج تک بنائے ہیں اور ان کا پیسہ [ٹائپ کرنے کی مزدوری] وصول کیا ہے اس کا کیا کروں؟ برائے مہربانی شریعت مطہرہ کی روشنی میں جواب دیں۔

جواب

اگر پہلے سے کوئی سودی معاہدہ ہوچکا ہو اور اس کی تحریر بھی تیار ہو، آپ محض اسی سابقہ معاہدے کو نقل کریں تو  آپ  اس وعید میں شامل نہیں جس میں سود لکھنے والے پر بھی لعنت وارد ہوئی ہے، البتہ پہلے سے لکھے ہوئے معاہدے کی نقل تیار کرنے میں بھی کراہت ضرور ہے؛ اس لیے کمائی کو خالص حلال نہیں کہا جاسکتا۔

اور اگر کوئی سودی معاہدہ ہوگیا ہو اور اس کے بعد تحریر میں لانے کے لیے آپ اسے ٹائپ کرتے ہوں تو ایسی کمائی حرام ہے اوراسے ثواب کی نیت کے بغیر صدقہ کرنا واجب ہے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143811200035

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے