بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ذو القعدة 1441ھ- 02 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

وہ خدا بنا ہوا ہے، کہنے کا حکم


سوال

مُجھ کو گاڑی چلانا نہیں آتی، میرے بھائی کو آتی ہے، مگر سکھاتا نہیں،  میں عرصہ تک اس کو وقتاً فوقتاً کہتا رہا، مگر ہر بار ٹال مٹول کرتا ہے۔کبھی کہتا ہے اس 35سال میں اب آپ نہیں سیکھ سکتے۔میرے پاس وسائل نہیں کہ ڈرائیونگ اسکول میں تعلیم حاصل کر سکوں،  صبح بھی اس کو کہا،  اس نے کہا دیکھیں گے، بہت موڈ ی آدمی ہے۔

میں ابو جی کے پاس گیا کہا کہ گاڑی اپنی ہے، گاؤں میں ایک عزیز ڈرائیو کر سکتے ہیں، آپ ان کو بولیں کہ مجھے گاڑی سکھادیں۔ ابو جی نے بھائی کا کہا کہ اس سے سیکھو، مجھے غصہ آیا تھا تو میں نے کہا کہ وہ تو خدا بنا ہوا ہے، اسے چھوڑیں۔ اس پر ابو جی نے بہت زیادہ ڈانٹا، کہا کہ تم کافر ہو گئے ہو۔

اب  مجھے جلد از جلد بتائیں کہ کیا میں کافر ہو گیا ہوں؟میں شادی شدہ ہوں۔کیا بیوی کو طلاق ہو گئی ہے؟جلد از جلد بتائیں، میں توبہ کر رہا ہوں۔مگر اصل حکم بتائیں!

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ الفاظ کی وجہ سے اگرچہ آپ دائرۂ اسلام سے خارج نہیں ہوئے، تاہم گفتگو میں احتیاط  لازم ہے۔

فتاوی تتارخانیہ میں ہے:

"وما كان خطأ من الألفاظ، لاتوجب الكفر، فقائله مؤمن علی حاله، و لايؤمر بتجديد النكاح، و لكن يؤمر بالإستغفار و الرجوع عن ذلك". ( كتاب أحكام المرتدين، الفصل الأول، ٧/ ٢٨٤، ط: زكريا) فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144107200894

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں