بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

21 ذو الحجة 1441ھ- 12 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

وکیل کا موکل سے اصل قیمت سے زائد وصول کرنا


سوال

عمر نے زید سے کہا کہ میرے لیے ایک کارخانہ لےلو،  زید نے عمر سے کہا کہ کارخانہ 500000 روپے کا ہے، جب کہ اصل میں یہ کارخانہ 200000 روپے کا ہے، جب کہ 300000 روپے زید نے عمر کو زیادہ بتایا اور بقایا رقم زید نے اپنے لیے رکھی تو کیا یہ رقم زید کے لیے رکھنا جائز ہے یا ناجائز ؟

جواب

مذکورہ صورت میں زید ،عمر کے لیےخریداری کا  وکیل ہے، اس لیے زید کا اپنے موکل عمر  سے حقیقی قیمت سے زائد رقم وصول کرنا جائز نہیں ہے؛ لہذا اگر کارخانہ کی خریداری 2 لاکھ میں ہوئی ہے، تو بقایا رقم (تین لاکھ روپے) زید کے لیے اپنے پاس رکھنا جائز نہیں، بلکہ عمر کو واپس لوٹانالازم ہے، البتہ اگر زید خریداری میں وقت اور محنت صرف ہونے کی وجہ سے حق الخدمت لینا چاہتاہے تو اس کی صراحت کردے، پھر جانبین کی رضامندی سے جو  اجرت طے ہوجائے وہ رقم زید لے سکتاہے، اور محنت کی وجہ سے زید جو رقم لے گا وہ اس کا حق ہوگااور اس کی وصولی زید کے لیے جائز ہوگی۔ (امدادالاحکام 4/144) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008200107

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں