بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 شعبان 1441ھ- 30 مارچ 2020 ء

دارالافتاء

 

وکیل بنانے پر گواہ نہ بنائیں تو حکم


سوال

لڑکی نکاح میں وکیل بنانے پر دو گواہ نہ بنائے تو کیا اس وکالت سے نکاح ہو سکتا ہے؟ 

جواب

لڑکی کی توکیل (وکیل بنانے) پر اگردو گواہ نہ بنائے گئے ہوں تو بھی وہ توکیل ہوجائے گی، اور وہ وکیل  نکاح کرادے تو منعقد ہو جائے گا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 510):
"(وهو إقامة الغير مقام نفسه) ترفها أو عجزًا (في تصرف جائز معلوم". 
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200673

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے