بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شعبان 1441ھ- 06 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

ونگ میں نماز جمعہ کا حکم


سوال

ہماری ونگ روڈ  کی سیکورٹی صوبہ بلوچستان میں ایسی جگہ پر ہے جو شہرسے تقریباً  40 کلومیٹر کے فاصلےپرمین روڈ کےساتھ رہائش پذیر ہے، اس کی جنوب جانب 900  گزکے فاصلے پرمین روڈ پر چار عدد دکانیں اوردو ہوٹلز اور پندرہ کے قریب مکانات ہیں اور مین روڈسے ایک سروس روڈمغرب کی جانب ڈھائی کلومیٹر کے فاصلے پر ایک بستی کی طرف جاتا ہے، جس کی آبادی تقریباً  80 مکانات پر مشتمل ہے، اور ونگ میں 70 کے قریب کمرے اور ایک کنٹین ہے، جس میں ضرورت کی ہر چیز میسر ہوتی ہے، باقی گوشت وغیرہ گورنمنٹ مہیا کرتی ہے اور ونگ میں نرسنگ کا عملہ اور ضروری ادویہ اور کفن موجود ہوتا ہے، اور ونگ میں نائی، دھوبی، موچی ،درزی اور ورک شاپ ویلڈنگ وغیرہ جیسی سہولیات موجود ہوتی ہیں، باقی ونگ کو 600 جوان اتھرائز ہوتے ہیں، جن میں سے کچھ 150 کلومیٹر کی حدود میں 3 سے پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر رہائش پذیر ہیں، اور کچھ چھٹی پر، باقی ونگ میں 150 جوان مستقل موجودہوتے ہیں، اور ونگ میں نہ فیملی کوارٹرہیں اورنہ فیملیز  رہائش پذیر ہیں، اب سوال یہ ہے کہ :

 (1) ہماری ونگ میں ہمارےافسران نےامام غزالی کی کتاب ’’احیاءالعلوم‘‘  میں شرائطِ  جمعہ کاحوالہ دے کرجمعہ شروع کرادیا ہے، کیا ایسا کوئی حوالہ ہے جس کی وجہ سےوجوبِ  جمعہ لازم آئے؟

(2) قرآن واحادیث کی روشنی میں جمعہ کی شرائط بتائیں۔

(3)فوجی ادارےمیں سیکورٹی کےباعث جوان نمازِ جمعہ کے لیےشہرمیں نہیں جاسکتے،  اگروہ کیمپ میں نمازِ جمعہ پڑھنا شروع کردیں، کیا نمازِ جمعہ ادا ہوجائے گی؟

 (4) اکثربارڈروں یا پہاڑوں اورجنگلوں میں سیکورٹی کے لیے کیمپ لگائے جاتے ہیں، وہاں تھوڑی آبادی ہوتی ہے یانہ ہونے کے برابرہوتی ہے، وہاں جمعہ کا ادا کرنا کیسا ہے؟

(5 ) جہاں شرائطِ  جمعہ نہ پائی جائیں وہاں پرافسران کےحکم سےنفاذِ  نمازِ جمعہ کاکیاحکم ہے؟

 (6)جس جگہ پرشرائطِ  جمعہ نہ پائی جانے کی وجہ سے نمازِ جمعہ ادا کرلی جائے تولوگوں کے ذمہ جوفرض رہ جاتاہے؟ اس کاکیا حکم  ہے؟

جواب

1۔ امام شافعی رحمہ اللہ کے ہاں جمعہ کی صحت کے لیے شہر یا شہر کی مضافات کا ہونا ضروری نہیں،بلکہ  ایسی جگہ ہونا شرط ہے جو عمارتوں اور آبادی پر مشتمل ہو، لہذا دیہات میں بھی جمعہ جائز ہے، لہذا شوافع کے ہاں مذکورہ جگہ پر جمعہ جائز ہے، لیکن ائمہ احناف کے ہاں مذکورہ جگہ پر جمعہ کی نماز پڑھنا جائز نہیں۔

امام غزالی رحمہ اللہ شافعی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں، لہذا ’’احیاء علوم الدین‘‘  میں اسی کے مطابق شرائطِ جمعہ درج ہوں گی۔

2۔ جمعہ کے صحیح ہونے کے لیے چھ شرائط ہیں:

شہر/بڑی بستی  یا شہر کے مضافات کا ہونا، سلطان یا اس کے نائب کا ہونا، ظہر کا وقت ہونا، جمعہ کی نماز سے پہلے خطبہ کا ہونا، جماعت کا ہونا اور عام اجازت کا ہونا۔

3۔ اگر جمعہ کی دیگر شرائط پائی جائیں اور فوجی ادارے میں سیکورٹی کے باعث فوجی نوجوان کیمپ میں نمازِ  جمعہ پڑھیں تو جمعہ کی نماز ادا کرنا درست ہے۔

4۔ بارڈر ، پہاڑ یا جنگل جہاں آبادی نہ ہو،  وہاں جمعہ کی نماز ادا کرنا درست نہیں، وہاں ظہر کی نماز ہی پڑھی جائے گی۔

5 و 6۔  جس جگہ جمعہ کی صحت کی شرائط نہ پائی جائیں وہاں جمعہ ادا کرنا درست نہیں، لیکن اگر کسی ایسی جگہ پہلے سے جمعہ کی نماز ادا کی جارہی ہو جہاں جمعہ کی شرائط نہیں پائی جاتیں تو اسے ختم کرنے کی کوشش کی جائے،  اگر جمعہ ختم کرانے میں فتنے یا انتشار کا خوف ہو تو جمعہ ادا کرنا جائز ہے، کفایت المفتی میں ہے:

’’اگر اس جگہ ایک سو برس سے جمعہ کی نماز ہوتی ہے تو اسے بند نہ کرنا چاہیے کہ اس کی بندش میں دوسرے فتن و فساد کا اندیشہ ہے، جو لوگ نہ پڑھیں ان پر اعتراض اور طعن نہ کرنا چاہیے، وہ اپنی ظہر کی نماز پڑھ لیا کریں اور جو جمعہ پڑھیں وہ جمعہ پڑھ لیا کریں۔‘‘

ہماری معلومات کے مطابق فوجی جوانوں کے لیے ایکسائز ایریاز، جنگی مشقوں اور دیگر ہنگامی تشکیلات کے حوالے سے جی ایچ کیو سے قوانین کی صورت میں مختلف آرڈرز پاس کیے گئے ہیں، ان میں فقہ حنفی کے مطابق شرائطِ جمعہ کا لحاظ رکھا گیا ہے، اگر  آپ کو وہ دست یاب ہوں تو  قوانین کی بنیاد پر انتظامی مشکلات اور اختلافِ رائے سے بچا جاسکتاہے۔ فقط واللہ اعلم

حوالہ جات

1۔إحياء علوم الدين   (1 / 179):

" اعلم أنها تشارك جميع الصلوات في الشروط وتتميز عنها بستة شروط ···  الثاني المكان فلا تصح في الصحاري والبراري وبين الخيام بل لا بد من بقعة جامعة لأبنية لا تنقل يجمع أربعين ممن تلزمهم الجمعة والقرية فيه كالبلد ولا يشترط فيه حضور السلطان ولا إذنه ولكن الأحب استئذانه".

2۔  الفتاوى الهندية  (4 / 285):

"( ولأدائها شرائط في غير المصلي )  منها المصر هكذا في الكافي ···( ومنها السلطان ) عادلا كان أو جائرا ، هكذا في التتارخانية ··· ( ومنها وقت الظهر ) حتى لو خرج وقت الظهر في خلال الصلاة تفسد الجمعة ··· ( ومنها الخطبة قبلها ) حتى لو صلوا بلا خطبة أو خطب قبل الوقت لم يجز ، كذا في الكافي ··· ( ومنها الجماعة ) وأقلها ثلاثة سوى الإمام ، كذا في التبيين ···  ( ومنها الإذن العام ) وهو أن تفتح أبواب الجامع فيؤذن للناس كافة".

3۔الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) - (2 / 152):

" فلايضر غلق باب القلعة لعدو أو لعادة قديمة لأن الإذن العام مقرر لأهله وغلقه لمنع العدو لا المصلي، نعم لو لم يغلق لكان أحسن كما في مجمع الأنهر معزيا لشرح عيون المذاهب قال: وهذا أولى مما في البحر والمنح فليحفظ".

و في الرد:

"(قوله: وغلقه لمنع العدو إلخ) أي أن الإذن هنا موجود قبل غلق الباب لكل من أراد الصلاة، والذي يضر إنما هو منع المصلين لا منع العدو".

4۔ فتح القدير لكمال بن الهمام   (3 / 205):

"ولا جمعة بعرفات في قولهم جميعا ؛ لأنها قضاء وبمنى أبنية".

5 و 6۔ کفایت المفتی، کتاب الصلاۃ، پانچواں باب ۳/ ۱۸۷ ط: دارالاشاعت


فتوی نمبر : 144102200134

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے