بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 شعبان 1441ھ- 07 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

وقت مقرر سے زیادہ کام کرنے پر ملازم کو مجبور کرنا


سوال

 آج کل دفتر میں دیر تک بیٹھنے پر زور دیا جاتا ہے، جب کہ اس تاخیر سے بیٹھنے پر کوئی معاوضہ نہیں دیا جاتا ہے۔ کیا آفیسرز کے لیے ملازمین کو دیر تک بیٹھنے پر مجبور کرنا ٹھیک ہے؟ اور دیر تک نہ رکنے پر نوکری سے نکالنے کی دھمکی دینا کیسا طرز عمل ہے؟ شریعت کے مطابق رہنمائی فرمائیں۔

 

جواب

چونکہ ملازمین کی ملازمت کا ایک خاص وقت متعین ہے، اور اسی وقت کا انہیں معاوضہ دیا جاتا ہے، اس متعین وقت کے بعد ملازم کا بلامعاوضہ اضافی کام کرنا ملازم کی طرف سے ایک احسان ہے، جس پر ملازم کو شرعی اعتبار سے مجبور کرنا جائز نہیں ہے۔ذمہ داران کو چاہیے کہ یا تو اضافی وقت کا معاوضہ متعین کریں، یا پھر ملازمین کو بلا جبر کام کرنے کا اختیار دیں۔ 


فتوی نمبر : 143612200021

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے