بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 ربیع الثانی 1441ھ- 09 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

وعدہ طلاق سے طلاق کا حکم


سوال

کیا ’’طلاق دے دوں گا‘‘ سے طلاق ہوجاتی ہے؟  دو دفعہ بولا ہے، کیا ’’ٹانگ توڑدوں گایہ،  اس سے میری جان چھڑادو‘‘  کہنے سے طلاق ہوجاتی ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ الفاظ کہ ”طلاق دے دوں گا“ یہ طلاق کی دھمکی اور وعدہ ہے، اس سے طلاق واقع نہیں ہوتی، اسی طرح ”ٹانگ توڑ دوں گا“ اور ”میری جان چھڑادو“  کہنے سے بھی طلاق واقع نہیں ہوتی۔البتہ اس طرح کے الفاظ استعمال کرنے سے بھی اجتناب کرنا چاہیے۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"فِي الْمُحِيطِ: لَوْقَال بِالْعَرَبِيَّةِ: أُطَلِّقُ، لَايَكُون طَلَاقًا إلَّا إذَا غَلَبَ اسْتِعْمَالُهُ لِلْحَال؛ فَيَكُون طَلَاقًا". (1/384، الفصل السابع فی الطلاق بالالفاظ الفارسیہ، ط: رشیدیہ) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010201255

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے