بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ذو القعدة 1441ھ- 02 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

وسوسہ اور کم اصلی کی بیٹی کہنے سے طلاق نہیں ہوتی


سوال

ایک دن میں بہت غصے میں تھا اور اپنے بیٹی کو کہا ’’کم اصلی کی بیٹی‘‘  میں ہر لفظ بہت سوچ کے کہتا ہوں اور دل میں وسوسہ ہر وقت ہوتا ہے طلاق کا،  میں کوئی کام کرتا ہوں تو طلاق کا وسوسہ میرے دل میں ہوتا ہے۔ یہ جو لفظ میں نے اپنی بیٹی کو کہا ہے،  اس وقت میرے دل میں بیوی کوطلاق  دینا نہیں تھا، اگر ہوتا توطلاق واقع ہو جائے گی؟

جواب

محض طلاق کا خیال آنے سے یا وسوسہ آنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی،  اس لیے وساوس کے شکار ہونے کی ضرورت نہیں۔ اپنے ذہن کو خالی نہ رکھا کریں اپنے آپ کو کسی نہ کسی تعمیر ی کام میں مصروف رکھا کریں، اور طلاق کے سلسلہ میں بالکل نہ سوچا کریں۔

نیز  کسی بھی لفظ سے طلاق کی نیت کرنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی ہے، بلکہ اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ لفظ طلاق کی صلاحیت رکھتا ہو، اور اس میں طلاق کا احتمال موجود ہو۔ ایسا لفظ جو طلاق کا احتمال نہیں رکھتا اس سے اگر طلاق دینے کی نیت کی بھی تو  کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی۔  اور جب ایسے الفاظ میں نیت کا اعتبار ہی نہیں تو قصداً نیت کے اقرار سے بھی طلاق واقع نہیں ہوگی۔

لہذا ان الفاظ  (کم اصلی کی بیٹی) سے بھی طلاق واقع نہیں ہوتی ،اگرچہ ان سے طلاق کی نیت کی جائے۔ تاہم غصہ میں بے قابو ہونا اور نامناسب الفاظ کہنا اچھی عادت نہیں ہے، غصہ پر کنٹرول اور نامناسب الفاظ  کی ادائیگی سے اجتناب کرنا چاہیے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 224):

’’قال الليث: الوسوسة حديث النفس، وإنما قيل: موسوس؛ لأنه يحدث بما في ضميره. وعن الليث: لايجوز طلاق الموسوس‘‘. فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144103200435

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں