بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 12 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

ورثاء کا پگڑی کا معاملہ ختم کرنے کی صورت میں پگڑی کی رقم ترکہ سے ادا کرنا


سوال

ہمارے دادانے بلڈنگ پگڑی پر دی، اور پگڑی کےپچیس لاکھ روپے وصول کیے، اور ماہا نہ کرایہ تین ہزار روپے طے کیا،  جب کہ اب مارکیٹ میں کرایہ ایک لاکھ ہے، دادا کا ا نتقال ہوگیا ہے،  وارثین کاکہنا ہے کہ بلڈنگ خالی کرالی جائے، کیا شرعی طور پر پگڑی کے پیسے واپس کرنے پڑیں گے؟  اگر واپس کرنے پڑے تو کیا دادا کی میراث میں سے واپس کیے جائیں گے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں آپ کے دادا نے جو بلڈنگ پگڑی پر دی  تو اس کے وہ خود ہی مالک تھے،  ان کے انتقال کے بعد اس کے مالک ان کے ورثاء ہیں، اب ان کے انتقال کے بعد  اگر ان کے ورثاء مذکورہ پگڑی کا معاملہ ختم کرکے بلڈنگ واپس لینا چاہتے ہیں تو  پگڑی پرلینے والے  کو  اس کی رقم واپس کرنا ہوگی،  رقم خواہ ورثاء مرحوم کے ترکہ میں سے دے دیں اور پھر مذکورہ  پوری بلڈنگ ترکہ میں تقسیم کرلیں، یا ورثاء اپنے اپنے حصوں کے بقدر دے کر بلڈنگ واپس لے لیں اور پھر وہ پوری بلڈنگ ترکہ میں تقسیم کرلیں۔ نیز یہ بھی اختیار ہے کہ  ورثاء  پگڑی پر لینے والوں سے کچھ رقم لے کر اونرشپ  کا معاملہ کرلیں اور وہ رقم ترکہ میں شامل کرلیں۔

         "فتاوی شامی" میں ہے:

"وفي الأشباه: لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة كحق الشفعة، وعلى هذا لا يجوز الاعتياض عن الوظائف بالأوقاف.

(قوله: لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة عن الملك) قال: في البدائع: الحقوق المفردة لا تحتمل التمليك، ولا يجوز الصلح عنها".(4 / 518، کتاب البیوع،  ط: سعید)

"بدائع الصنائع " میں ہے:

 "ولو أجرها المستأجر بأكثر من الأجرة الأولى، فإن كانت الثانية من خلاف جنس الأولى طابت له الزيادة، وإن كانت من جنس الأولى لا تطيب له حتى يزيد في الدار زيادةً من بناء أو حفر أو تطيين أو تجصيص".(4/ 206، کتاب الاجارۃ،  فصل فی حکم الاجارۃ، ط: سعید) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909202188

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے