بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ربیع الثانی 1441ھ- 08 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

ورثاء میں صرف پھوپھی کی اولاد ہو تو میراث کیسے تقسیم ہوگی ؟


سوال

ایک شخص کا انتقال ہوگیا ہے ورثاء میں صرف ایک پھوپھی کے 5بیٹے اور ایک پھوپھی کی 3بیٹیاں ہیں ترکہ کس طرح تقسیم ہوگا؟

جواب

اگر مذکورہ شخص کے قریبی ورثاء میں کوئی بھی حیات نہیں ہے، صرف پھوپھیوں کی اولاد موجود ہے تو  وہ مرحوم کے ترکہ کی مستحق ہوگی۔ مذکورہ صورت میں مرحوم کے کل ترکہ کو 13حصوں میں تقسیم کرکے دو، دو حصے ہر ایک لڑکے کو اور ایک، ایک حصہ ہر ایک لڑکی کو دیاجائے گا۔یعنی ہر سوروپے میں سے 15.38روپے ہر ایک لڑکے کو اور 7.69روپے ہر ایک لڑکی کو ملیں گے۔

فتاوی شامی میں ہے :

"( ثم ) جزء جدته أو جدتيه وهم ( الأخوال والخالات والأعمام لأم والعمات وبنات الأعمام وأولاد هؤلاء ثم عمات الآباء والأمهات وأخوالهم وخالاتهم وأعمام الآباء لأم وأعمام الأمهات كلهم وأولاد هؤلاء ) وإن بعدوابالعلو أو السفول ويقدم الأقرب في كل صنف. (قوله: وبنات الأعمام ) أطلقه فشمل الأعمام لأبوين أو لأب أو لأم. (قوله: وأولاد هؤلاء) أي أولاد هذا الصنف الرابع عند عدم أوصلها، وخصهم بالذكر؛ لعدم تناول الأعمام والعمات والأخوال والخالات لأولادهم". (6/79) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200041

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے