بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ربیع الثانی 1441ھ- 08 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

وراثت کی تقسیم کا طریقہ کار


سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں:

ایک شخص کے سات بیٹے اور ایک بیٹی ہے ،اس کی جائیداد کچھ گاؤں میں ہے اور دو مکان شہر میں ہیں۔اب جو گاؤں کے گھر ہیں وہ زلزلے کے نتیجے میں گرے اور پاکستان گورنمنٹ نے اس کی نقصان کی تلافی کے لیے  پیسے د یے، وہ اس کے بڑے چار بیٹوں نے وصول کیے اور چھوٹے 3بھائیوں اور بہن کو کچھ بھی نہیں دیاگیا، اب یہ سب بھائی شہر کے مکانوں میں بھی حصہ کا مطالبہ کر رہے ہیں، تو ان کو اس میں سے حصہ دیاجائے گا یا نہیں؟ راہ نمائی فرمائیں جب کہ اس آدمی کی باقی جو جائیداد ہے اس میں وہ سب کو حصہ دے رہے  ہیں، جورقم گورنمنٹ نے دی ہے اس کو بھی وراثت میں شامل کر کے حصے نکالے جائیں ؟

جواب

آپ نے سوال میں وضاحت نہیں کی کہ والد صاحب حیات ہیں یا نہیں۔

اگر آپ کے والد صاحب حیات ہیں تو وہ اپنی حیات میں اپنی جائیداد و اموال کے خود مالک ہیں، ان کی زندگی میں اولاد کو ان سے مطالبے کا حق حاصل نہیں ہے۔اور  اگر والد صاحب اپنی زندگی میں اپنی اولاد کے درمیان اپنی جائیداد و اموال تقسیم کرناچاہتے ہیں تو یہ تقسیم وراثت نہیں، بلکہ ہدیہ(گفٹ)کہلائے گی۔اور زندگی میں اولا دکے درمیان جائیداد کی تقسیم کے بارے میں شرعی حکم یہ ہے کہ تمام اولاد کو برابربرابر حصے دیے جائیں ، اور جتناحصہ بیٹے کودیں اتناہی حصہ بیٹی کوبھی دیاجائے،بغیر کسی شرعی بنیاد کے کسی کو کم اور کسی کو زیادہ دینادرست نہیں ہے۔لہذا اگر آپ کے والد نے گورنمنٹ کی جانب سے ملنے والی رقم اپنے چاربیٹوں کو دی ہے اوروالد صاحب اپنی جائیداد اولاد میں تقسیم کرناچاہتے ہیں تو اس رقم کے بقدر دیگر بیٹوں اور بیٹی کو جائیداد میں کچھ حصہ زائد دے دیں۔

اور اگر والد صاحب حیات نہیں ہیں،اور گورنمنٹ سے حاصل شدہ رقم زلزلہ میں تباہ شدہ گھروں کے بدلہ میں تھی اور وہ گھر سب بہن بھائیوں میں مشترک ہیں تو اس رقم میں سارے بہن بھائیوں کا حصہ ہے،صرف بڑے چار بھائیوں کا اس رقم کو لے لینادرست نہیں،بلکہ اس رقم میں شرعی حساب سے 2،2حصے ہر ایک بھائی کے  اور ایک حصہ بہن کا ہے۔لہذا وہ رقم تمام ورثاء میں حصوں کے مطابق تقسیم ہونی چاہیے۔نیز والد صاحب کے جتنے بھی متروکہ مکانات ہیں وہ تمام مکانات بھی تمام ورثاء میں شرعی حصوں کے مطابق تقسیم کیے جائیں گے۔یعنی کل جائیداد کو پندرہ حصوں میں تقسیم کرکے دو،دوحصے ہر ایک بھائی کو اور ایک حصہ بہن کو ملے گا۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909201780

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے