بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 شوال 1441ھ- 28 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

وتر کی رکعات


سوال

"Sunnan e Ibn e Maja Hadees # 1190 حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ الْوِتْرُ حَقٌّ، ‏‏‏‏‏‏فَمَنْ شَاءَ فَلْيُوتِرْ بِخَمْسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ شَاءَ فَلْيُوتِرْ بِثَلَاثٍ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ شَاءَ فَلْيُوتِرْ بِوَاحِدَةٍ".

  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وتر حق ( ثابت ) ہے، لہٰذا جس کا جی چاہے پانچ رکعت وتر پڑھے، اور جس کا جی چاہے تین رکعت پڑھے، اور جس کا جی چاہے ایک رکعت پڑھے۔

برائے کرم وضاحت فرمائیں چاروں ائمہ کرام کے نزدیک!

جواب

مذکورہ روایت سنن ابنِ ماجہ: ۲/۳۶۵  (ط: مکتبۃ دارالخیل) اور سنن ابی داود :۲/۸۹، رقم الحدیث :۱۴۲۲ ( ط: مکتبۃ دارابن حزم بیروت) میں موجود ہے،  الفاظ بھی وہی ہیں جو سائل نے ذکر کیے ہیں، اور  یہ روایت سنداً صحیح بھی ہے اور اس کے شواہد بھی موجود ہیں،  لیکن  احناف کے ہاں مذکورہ روایت منسوخ ہے اور  وتر کے حکم کے متعین ہونے سے پہلے  پر محمول ہے، جب  کہ یہ روایت امام شافعی رحمہ اللہ کا مستدل ہے ۔

 وتر کے حکم کے بارے میں ائمہ کے مذاہب :

وتر حنفیہ کے ہاں واجب ہے۔  (الایضاح فی شرح الاصلاح لابن کمال پاشا :۱/۱۳۱،ط: دارالکتب العلمیۃ)

مالکیہ کے ہاں وتر سنت ہے۔(المسالک فی شرح موطا مالک :۲/۴۹۳، ط: دارالغرب الاسلامی)

شوافع کے ہاں وتر سنت ہے ۔(روضۃ الطالبین للنووی :۱/۴۳۰، ط: دارالکتب العلمیۃ)

حنابلہ کے ہاں وتر سنت ہے اور اسی کو صحیح مذہب قرار دیا ہے ، اور ایک روایت امام احمد رحمہ اللہ سے وجوب کی بھی ہے ۔(المقنع لابن قدامہ :۱/۱۸۲،۱۸۳، مکتبہ سلفیہ )

 وتر کی تعداد کے بارے میں ائمہ کا اختلاف

۱۔حنفیہ کے ہاں وتر تین رکعات ہیں، ایک سلام اور دو تشہد کے ساتھ ، جیسے مغرب کی نماز ہے ، ایک رکعت حنفیہ کے ہاں جائز نہیں۔(معارف السنن :۴/۱۷۱)

۲۔شوافع کے ہاں وتر تین رکعات ہیں دو سلاموں کے ساتھ ، پھر ان کے ہاں ایک رکعت سے گیارہ یا تیرہ رکعات کا بھی اختیار ہے، امام شافعی رحمہ اللہ کے ہاں ایک رکعت سے بھی وتر ادا ہو جائے گی۔(روضۃ الطالبین :۱/۴۳۰،ط: دارالکتب العلمیۃ بیروت)

لیکن قاضی ابوالطیب طبری شافعی رحمہ اللہ نے ایک رکعت وتر کو مکروہ قرار دیا ہے ۔(ارشاد الساری لشرح البخاری :۲/۴۰۸،ط:دارالفکر بیروت)

۳۔ حنابلہ کے ہاں وتر ایک رکعت  سے گیارہ رکعت تک ہے، ہر دو رکعات پر سلام اور پھر ایک رکعت الگ پڑھی جائے گی۔ (المقنع لابن قدامہ :۱/۱۸۳،ط: مکتبہ سلفیہ)

۴۔امام مالک رحمہ اللہ  کے نزدیک  وتر تین رکعت ہیں،  دو سلاموں کے ساتھ  ایک رکعت پر اکتفا کرنا درست نہیں اور امام مالک رحمہ اللہ کے ہاں مسافر ایک رکعت وتر پڑھ سکتا ہے۔ (المسالک فی شرح موطا مالک :۲/۴۹۴،۴۹۵، ط:دارالفکر بیروت )

امام مالک رحمہ اللہ نے ایک رکعت والی روایت پر عمل نہ ہونے کی موطا میں صراحت کی ہے۔ (موطا امام مالک :۱/۱۲۵، باب الامر بالوتر ، ط: داراحیاء التراث العربی بیروت) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200087

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے