بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 20 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

والد کے انتقال کے بعد ملنے والی زمین پر زکاۃ کا حکم


سوال

میرے والد صاحب کے نام پہ کچھ زمین تھی جوکہ قانونی عمل میں پیچیدگیوں کی وجہ سے اب تک ترکہ میں کسی اور کے نام پر تقسیم نہیں ہو سکی۔ اب والد صاحب کو وصال کیے ہوئے ایک سال مکمل ہو گیا ہے۔

۱-ایسی زمین پہ اب زکاۃ کس پر واجب الادا ہے؟

۲-اور زکاۃ کا حساب یعنی کہ ایک سال گزرنا والد صاحب کی وفات کی تاریخ سے شروع ہوگا یا جس دن وہ زمین یا کوئی اور مال ورثہ کے نام پہ ٹرانسفر ہوا ہے اس دن سے شروع ہوگا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں والد کی متروکہ جائیداد پر زکاۃ واجب نہیں، نہ فی الحال اور نہ ہی گزرے ہوئے زمانہ کی، الغرض جب تک یہ جائیداد اسی حالت پر برقرار رہتی ہے اس پر زکاۃ واجب نہیں۔ باقی جب تقسیم کے بعد ملکیت اور قبضے میں آجائے تو زمین پر اس وقت تک زکاۃ واجب نہیں ہوگی جب تک اسے فروخت نہ کردے، کیوں کہ یہ مالِ تجارت اس وقت بنے گی جب اسے فروخت کیا جائے۔ اگر زمین ملکیت میں آنے کے بعد کرایہ پر دی جائے تو دیکھا جائے گا کہ کرایہ اگر خرچ ہوجاتاہے تو اس پر بھی زکاۃ واجب نہیں ہوگی، اگر وہ بچ جاتاہے تو دیگر قابلِ زکاۃ اموال کے ساتھ اس کا بھی حساب کیا جائے گا۔

باقی دیگر اموال (نقدی، سونا، چاندی یا مالِ تجارت) تقسیم کے بعد جب ملکیت میں آجائیں اس کے بعد دیکھا جائے گا کہ اگر وارث پہلے سے صاحبِ نصاب ہے تو اس مال کو بھی سابقہ قابلِ نصاب مال کے ساتھ شامل کرکے سالانہ زکاۃ ادا کرے گا، اور اگر پہلے صاحبِ نصاب نہیں تھا، بلکہ ملکیت میں ترکہ آنے کے بعد صاحبِ نصاب ہوا اور مال قابلِ زکاۃ (نقدی، سونا، چاندی، مالِ تجارت) ہے تو اس وقت سے اس کی زکاۃ کے حساب کا سال شروع ہوگا۔

"فتاویٰ ہندیہ" میں ہے:

«وأما سائر الديون المقر بها فهي على ثلاث مراتب عند أبي حنيفة – رحمه الله تعالى- ضعيف، وهو كل دين ملكه بغير فعله لا بدلًا عن شيء نحو الميراث أو بفعله لا بدلًا عن شيء كالوصية أو بفعله بدلًا عما ليس بمال كالمهر وبدل الخلع والصلح عن دم العمد والدية وبدل الكتابة لا زكاة فيه عنده حتى يقبض نصابًا ويحول عليه الحول». (كتاب الزكاة، ج:1، ص: 171، ط: ماجدية) فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144104200414

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں