بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1441ھ- 06 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

والد مرحوم سے لیا گیا قرض ترکہ میں شامل ہوگا


سوال

میں نے اپنے والد سے 2010 میں دس لاکھ روپے قرض لیے۔والد صاحب کا 2014 میں انتقال ہو گیا ۔والدہ صاحبہ کا بھی اس سال انتقال ہو گیا ہے ۔سوال یہ ہے کہ اب اس قرض کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ اگر یہ ترکہ ہے تو ہم تین بھائیوں اور پانچ بہنوں میں کیسے تقسیم ہو گا؟ اور کیا کوئی بھائی یا بہن اپنے حق سے دست بردار ہو سکتی ہے؟

جواب

مذکورہ قرض کی رقم والد مرحوم کے ترکہ میں شامل ہوگی، اور تمام ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگی۔والد مرحوم کے ترکہ کو (بشمول اس رقم کے ) گیارہ حصوں میں تقسیم کیاجائے گا جس میں سے دو، دو حصے سائل اور اس کے ہر ایک بھائی کو اور ایک ایک حصہ سائل کی ہرایک بہن کو ملے گا۔یعنی ہر سوروپے میں سے 18 اعشاریہ 18 روپے ہر ایک بھائی کو اور 9.090روپے ہر ایک بہن کو دیے جائیں گے۔

میراث اور ترکہ میں جائیداد  کی تقسیم سے پہلے کسی وارث کا اپنے شرعی حصہ سے بلا عوض دست بردار ہوجانا شرعاً معتبر نہیں ہے، البتہ ترکہ تقسیم ہوجائےتو پھر ہر ایک وارث اپنے حصے پر قبضہ کرنے  کے بعد اپنا حصہ کسی  کو دینا چاہے  یا کسی کے حق میں دست بردار ہوجائے تو یہ شرعاً جائز اور  معتبر ہے۔ اسی طرح کوئی وارث ترکہ میں سے کوئی چیز لے کر (خواہ وہ معمولی ہی کیوں نہ ہو)  صلح کرلے اور ترکہ میں سے اپنے باقی حصہ سے دست بردار ہوجائے تو یہ بھی درست ہے،ان دونوں صورتوں میں پھر ایسے شخص کا اس ترکہ میں حق باقی نہ رہے گا۔

" تکملۃ رد المحتار علی الدر المختار" میں ہے:

"الإرث جبري لَايسْقط بالإسقاط". (ج: 7/ص:505 / کتاب الدعوی، ط :سعید)

"الأشباہ والنظائر" لابن نجیم  میں ہے:

"لَوْ قَالَ الْوَارِثُ: تَرَكْتُ حَقِّي لَمْ يَبْطُلْ حَقُّهُ؛ إذْ الْمِلْكُ لَايَبْطُلُ بِالتَّرْك". (ص:309- ما یقبل الإسقاط من الحقوق وما لایقبله، ط:قدیمی)

واضح رہے کہ تقسیم کی مذکورہ صورت اس وقت ہے جب کہ والدِ مرحوم کے والدین (سائل کے دادا، دادی) میں سے کوئی حیات نہ ہو۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144104200307

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں