بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

والدہ کا یہ کہنا کہ اب اگر تو نے سگریٹ پی تو اللہ تمہیں میرا جنازہ نصیب نہ کرے

سوال

میں سگریٹ پیتا ہوں اور میری والدہ یہ نا پسند کرتی ہیں، لیکن انہیں یہ  معلوم نہیں کہ میں سگریٹ پیتا ہوں، کچھ رشتہ دار بار بار میری والدہ کے پاس آ کر یہ کہتے ہیں کہ یہ سگریٹ پیتا ہے، اب میری والدہ نے قسم دی ہے کہ میں سگریٹ پیوں تو اللہ تمہیں میرا جنازہ نصیب نہ کرے، حال آں کہ میں چھ یا سات سال سے سگریٹ پی رہا ہوں، انہوں نے شک کی بنیاد پر مجھے یہ قسم دی ہے، اب میں کیا کروں؟ میں فوراً چھوڑ نہیں سکتا اور اس قسم سے بھی بہت ڈر لگتا ہے  کہ ایسا ہو ہی نہ جائے۔

جواب

آپ کی والدہ نے جو الفاظ استعمال کیے ہیں اس سے شرعاً  قسم منعقد نہیں ہوتی، یہ الفاظ بد دعا کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم سگریٹ کا استعمال چوں کہ شرعاً و اخلاقاً پسندیدہ نہیں ہے،  نیز آپ کی والدہ کو بھی سخت نا پسند ہے، اور جائز کاموں میں والدین کی اطاعت ضروری ہے، اور آدمی کسی کام کا عزم کرلے تو یہ سب باتیں معمولی اور ہیچ ہوجاتی ہیں، لہٰذا سیگریٹ چھوڑنے کا عزم کرلیجیے، اور جتنا جلد ہوسکے اس کو  کم کرتے کرتے مکمل چھوڑنے کی کوشش کریں؛ تا کہ آپ کی والدہ کی ناراضی کا باعث نہ بنے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105200465
تاریخ10-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں