بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 21 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

والدہ کا انتقال نانا کی زندگی میں ہونے سے میراث میں حصہ


سوال

 میری امی میرے نانا کی وفات سے پہلے فوت ہو گئی تھیں، میری ایک بہن ہے،  کیا ہمارا نانا کی جائیداد میں سے حصہ بنتا ہے؟  اور اگر بنتا ہے تو کیسے تقسیم ہوگا؟

جواب

شرعی اعتبار سے وارث وہی شخص بن سکتا ہے جو مورِث کی وفات کے وقت زندہ ہو؛ لہذا آپ کی والدہ جب نانا کی زندگی میں وفات پاگئیں تو  نانا کے ترکہ میں ان کا حصہ نہیں ہے, اور جب نانا کی میراث میں والدہ کا حصہ نہیں ہے تو آپ اور آپ کی بہن کا بھی شرعی حصہ نہیں ہوگا، البتہ اگر آپ کی والدہ کی ملکیت میں کوئی جائے داد تھی تو ان کی جائے داد میں آپ دونوں کا بحیثیت اولاد شرعی حصہ ہوگا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012200273

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے