بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ربیع الثانی 1441ھ- 11 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

واجب الوصول کمیشن پر زکاۃ


سوال

مال فروخت ہو گیا ہے اور دلالی ( بروکریج) کی مد میں کمیشن وصول طلب ہے، لیکن ابھی تک وصول نہیں ہوئی، ہماری زکاۃ  کی تاریخ آ چکی ہے، کیا اس پر زکاۃ  لاگو ہو گی؟

جواب

واجب الوصول کمیشن دینِ ضعیف ہیں اور جب تک یہ وصول نہیں ہوتا  تب تک اس پر زکاۃ  نہیں ہے،  آپ اپنی تاریخ پر موجود اثاثوں کی زکاۃ  ادا کریں جب یہ وصول ہوگا تو اگلے سال اس کی زکات ادا کی جائے گی۔

"وهو بدل غیر مال کمهر ودیة وبدل کتابة وخلع إلا إذا کان عنده یضم إلی الدین الضعیف". (الدر المختار)

وفي الشامیة: "والحاصل أنه إذا قبض منه شیئًا وعنده نصاب یضم المقبوض إلی النصاب ویزکیه بحوله ولایشترط له حول بعض القبض". (الدرالمختار مع رد المحتار، کتاب الزکاة، باب زکاة المال، قبیل باب العاشر،  کراچي۲/۳۰۶)

في البدائع: "وجملة الکلام في الدیون أنها علیٰ ثلاث مراتب في قول أبي حنیفة: دَین قوي ودین ضعیف و دین وسط، کذا قال عامة المشایخ :أما القوي فهو الذي وجب بدلاً عن مال التجارة کثمن عرض التجارة من ثیاب التجارة وعبید التجارة ولا خلاف في وجوب الزکاة فیه إلا أنه لایخاطب بأداء شيءٍ من زکاة مامضی مالم یقبض أربعین درهماً (إلی قوله) وأما الدَین الضعیف فهو الذي وجب بدلاً عن شيءٍ سواء و جب له بغیر صنعه کا لمیراث أو بصنعه کالوصیة أو وجب بدلاً عما لیس بمال کالمهر، وبدل الخلع، والصلح عن القصاص، وبدل الکتابة، ولا زکاة فیه مالم یقبض کله ویحول علیه الحول بعد القبض.

أن الدیون عند الإمام ثلاثة: قويّ متوسّط وضعیف، فتجب زکاتها إذا تم نصابًا وحال الحول لکن لا فورًا؛ بل عند قبض أربعین درهمًا من الدین القوي کقرض وبدل مال تجارة"... إلخ (درمختار، ۳/ ۲۳۶) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008200928

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے