بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 25 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

نیشنل سیونگ اور مروجہ اسلامی بینکوں میں سرمایہ کاری


سوال

 جو نیشنل سیونگ سے منافع آتا ہے یہ کیوں کر جائز نہیں ہے؛ کیوں کہ اسلامی بینکوں کی طرح نیشنل سیونگ کے جو پیسے ہوتے ہیں وہ بھی تو کسی کاروبارمیں لگتے ہیں اور اس کا منافع جو ہے تمام اسٹیک ہولڈرز کو دیا جاتا ہے تو کیوں اسلامی بینکنگ حلال ہے اور نیشنل سیونگ سے آنے والا منافع حلال نہیں ہے؟

جواب

نیشنل سیونگ سرٹیفکٹ کے ذریعہ جو سرمایہ کاری کی جاتی اس میں شرعی اصولوں کی رعایت نہیں کی جاتی، اس میں متعین شرح منافع پر سرمایہ کاری جاتی ہے ، جو رقم اس مد میں جاتی ہے اس کی حیثیت قرض کی ہوتی ہے اور اس پر جو منافع ملتا ہے وہ سود ہے، اس لیے نیشنل سیونگ میں سرمایہ کاری جائز نہیں ہے۔

اسی طرح ملک کے اکثر جید اور مقتدر مفتیانِ کرام  کی رائے یہ ہے کہ  مروجہ غیر سودی (اسلامی) بینکوں کا طریقہ کار  بھی شرعی اصولوں کے مطابق نہیں ہے،  اور مروجہ غیر سودی بینک اور  روایتی بینک کےبہت سے  معاملات درحقیقت ایک جیسے ہیں، لہذا روایتی بینکوں کی طرح ان سے بھی  تمویلی معاملات کرنا جائز نہیں ہے ۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200463

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے