بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 ربیع الاول 1442ھ- 20 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

نکاح کا وکیل بناتے وقت دو گواہ نہ ہوں


سوال

میں نے اپنی بہن کے نکاح میں ایجاب لیتے وقت صرف دو آدمی کو مقرر کیا یعنی وہ دو آدمی میرے  چاچا ہیں، کیا اس میں تین آدمی کا ہونا شرط ہے  یا دونوں ہی کافی ہیں؟ اور وہ نکاح مسجد میں ولی سے اجازت لے کر مجمع عام میں نکاح پڑھا گیا۔

جواب

دلہن سے اجازت لیتے وقت وکیل کے ساتھ گواہوں کا موجود ہونا صحتِ  نکاح  کے  لیے شرط یا  ضروری نہیں، البتہ مستحب ہے؛ تاکہ بوقتِ ضرورت وکالت کے ثبوت و صحت کی گواہی دے سکیں؛ لہذا اگر دو گواہ نہیں تھے، تب بھی نکاح درست ہوگیا ۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(قَوْلُهُ: وَشُرِطَ حُضُورُ شَاهِدَيْنِ) أَيْ يَشْهَدَانِ عَلَى الْعَقْدِ، أَمَّا الشَّهَادَةُ عَلَى التَّوْكِيلِ بِالنِّكَاحِ فَلَيْسَتْ بِشَرْطٍ لِصِحَّتِهِ، كَمَا قَدَّمْنَاهُ عَنْ الْبَحْرِ، وَإِنَّمَا فَائِدَتُهَا الْإِثْبَاتُ عِنْدَ جُحُودِ التَّوْكِيلِ". ( کتاب النکاح، ٣ / ٢١)  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200452

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں