بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو الحجة 1441ھ- 04 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

نکاح میں ایک شخص کا وکیل اور گواہ بننا


سوال

کیا نکاح میں دو مرد میں سے ایک وکیل اور پھر دونوں گواہ بن سکتا ہے یا نہیں؟ اور نکاح کے وقت ولی نے بھی اجازت دی ہو مجمع عام میں یعنی مسجد میں نکاح کیا گیا ہو کیا وہ نکاح ہوجائے گا؟

جواب

واضح رہے کہ مجلسِ نکاح میں اگر دولہا ودلہن موجود ہیں تو ان کے علاوہ دو گواہان کی ضرورت ہے، اگر ایک ہی شخص دونوں جانب سے نکاح کرائے تو پھر بھی اس کے علاوہ دو گواہان کی ضرورت ہے، اگر مجلسِ نکاح میں کل تین افراد ہوں جن میں ایک دولہا اور دوسرے دو میں سے ایک لڑکی کا وکیل ہو تو نکاح منعقد نہیں ہوگا۔ ان تمام صورتوں میں اگر بڑے مجمع میں نکاح ہوا ہو تو نکاح درست ہے۔

جامع الصغیر میں ہے:

"لأنه لايمكن جعله مزوجاً ومباشراً من وجه حكماً؛ لأنه لايتصور حقيقةً، فكان القول مضافاً إلى المزوج فلايصلح شاهداً، وعلى هذا قالوا: الأب إذا زوج بنته البكر البالغة بأمرها لحضرتها بشهادة رجل واحد جاز، وإن كانت غائبةً لايجوز". (1/172، عالم الكتب سنة النشر 1406 مكان النشر بيروت)

البحر الرائق میں ہے:

"(قوله: ومن أمر رجلاً أن يزوج صغيرته فزوجها عند رجل والأب حاضر صح، وإلا فلا؛ لأن الأب يجعل مباشراً للعقد باتحاد المجلس ليكون الوكيل سفيراً، ومعبرًا فبقي المزوج شاهدًا، وإن كان الأب غائبًا لم يجز". (كتاب النكاح 3/97، دار الكتاب الإسلامي)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(و) شرط (حضور) شاهدين (حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معًا) على الأصح". (كتاب النكاح ج: 3، ص: 21، ط: سعيد)

وفيه أيضًا:

"ويكفي شاهدان على وكالته". (كتاب النكاح، ج: 3، ص: 96، ط: سعيد)

العناية شرح الهدايهمیں ہے:

"(ومن أمر رجلاً أن يزوج ابنته الصغيرة فزوجها) بحضرة رجل واحد فلايخلو إما أن يكون الأب حاضرًا أو غائبًا، فإن كان حاضرًا (جاز النكاح؛ لأن الأب يجعل مباشرًا للعقد ويكون الوكيل) شاهدًا؛ لأن المجلس متحد، فجاز أن يكون العقد الواقع من المأمور حقيقة كالواقع من الآمر حكمًا لكون الوكيل في باب النكاح (سفيرًا ومعبرًا، وإن كان غائبًا لم يجز؛ لأن المجلس مختلف، فلايمكن أن يجعل الأب مباشرًا) مع عدم حضوره في مجلس المباشرة". (كتاب النكاح ج: 3، ص: 206، ط: دارالفكر) فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144105201025

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں