بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 20 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

نکاح میں دلہا کے دو بھائیوں کو گواہ مقرر کرنے کی صورت میں کیا وہ صرف دلہا کی طرف سے گواہ ہوں گے؟


سوال

 فتوی نمبر144010200854 کے مطابق جو میرے دو بھائی بطور گواہ ہوں گے وہ دونوں طرف سے یعنی میرے اور میری بیوی کے طرف سے گواہ ہوں گے یا صرف میرے نکاح کے گواہ ہوں گے؟ 

جواب

شرعاً نکاح کے انعقاد کے لیے صرف دو گواہ ضروری ہیں، خواہ وہ لڑکے کے رشتہ دار ہوں یا لڑکی کے، یا کسی کے بھی رشتہ دار نہ ہوں، لہذا وقت اگر دلہا (شوہر) کے دو بھائی بطورِ  گواہ موجود ہوں تو صرف دلہا کی طرف سے گواہ شمار نہیں ہوتے، بلکہ وہ نفسِ نکاح کے گواہ ہونے کی وجہ سے دلہا اور دلہن دونوں کے گواہ شمار ہوں گے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010200889

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے