بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 ربیع الاول 1442ھ- 20 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

نکاح میں حقیقی والد کی جگہ لڑکی کے مربی (والدہ کے دوسرے شوہر) کا نام لیا


سوال

میری خالہ کی طلاق ہوگئی اور اس کے بعد دوسری جگہ نکاح کیا گیا،  خالہ کی بیٹی جو پہلے شوہر سے تھی وہ بھی ان کے ساتھ ہی (دوسرے شوہر کے گھر پر) رہنے لگی۔ اس کی ابتدائی تعلیم و تربیت اور نشونما وہیں پر ہوئی؛ کیوں کہ پہلے شوہر نے یہ لکھ کر دیا تھا کہ وہ اس بچی کے کسی قسم کے نان و نفقہ یا خرچ کے ذمے دار نہیں ہوں گے، اس لیے بچی کے سکول داخلے سے لے کر آج تک کے تمام دستاویزات میں ولدیت کی جگہ خالہ کے دوسرے شوہر ہی کا نام لکھا جاتا رہا ، اب خالہ کی بیٹی کے جوان ہونے کے بعد خالہ کا انتقال ہو گیا، والدین نے اس کے ساتھ میرا نکاح کر دیا ہے،  ابھی رخصتی نہیں ہوئی ہے، میری اہلیہ کے  سولہ سالہ تعلیمی سرٹیفیکیٹس اور قومی شناختی کارڈ کے مطابق اس کے نکاح نامے میں اس کے حقیقی والد کی جگہ خالہ کے دوسرے شوہر کا نام لکھنا پڑا،  جب کہ نکاح کے وقت موجود رشتہ داروں اور گواہوں سمیت مجھے اور میریِ اہلیہ کو اس حقیقت کا علم تھا،  آپ سے مؤدبانہ سوالات یہ ہیں کہ:

(۱) کیا یہ نکاح ٹھیک تصور ہو گا ؟ (۲) نکاح کی تجدید کی ضرورت ہے ؟ (۳) تجدید کا سب سے آسان طریقہ کیا ہو گا ؟

جواب

واضح رہے کہ اگر مجلسِ نکاح میں ایجاب و قبول کے دوران لڑکی کا وکیل لڑکی کے والد کے نام میں غلطی کردے، یعنی لڑکی کا نام لیتے ہوئے اس کے ساتھ حقیقی والد کے بجائے کسی اور (مثلاً سوتیلے والد یا مربی) کا نام لے اور اس کی طرف لڑکی کو منسوب کرے تو اس لڑکی کا نکاح صحیح نہیں ہوگا،  البتہ اگر لڑکی خود مجلسِ نکاح میں حاضر ہو اور بجائے وکیل کے خود ایجاب و قبول کرے یا اس کی طرف اشارہ کر کے ایجاب و قبول کیا جائے تو ولدیت کی غلطی کی صورت میں نکاح صحیح ہوجائے گا۔

۱)صورت مسئولہ میں اگر نکاح کی مجلس میں لڑکی موجود نہیں تھی تو آپ کا اس سے نکاح منعقد نہیں ہوا۔

۲) ازدواجی رشتہ قائم کرنے کے لیے نکاح کی شرائط کا لحاظ کرتے ہوئے دوبارہ نکاح کرنا ضروری ہے۔

۳) صحیح نکاح کی بہتر صورت یہی ہے کہ اعلاناً دوبارہ نکاح کیا جائے جس میں لڑکی کے حقیقی والد کے ساتھ اس کا ذکر ہو؛ تاکہ دیگر مسائل مثلاً وراثت وغیرہ میں بھی آئندہ کوئی اشتباہ نہ رہے۔ اس کے لیے پہلے کی طرح تمام انتظامات اور تقریب کی ضرورت نہیں ہے، خاندان یا گھر کے افراد کے سامنے شرعی گواہوں کی موجودگی میں نکاح کرنے سے نکاح منعقد ہوجائے گا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 26):

"(غلط وكيلها بالنكاح في اسم أبيها بغير حضورها لم يصح)؛ للجهالة وكذا لو غلط في اسم بنته إلا إذا كانت حاضرةً وأشار إليها فيصح.

 (قوله: لم يصح)؛ لأن الغائبة يشترط ذكر اسمها واسم أبيها وجدها، وتقدم أنه إذا عرفها الشهود يكفي ذكر اسمها فقط، خلافاً لابن الفضل، وعند الخصاف يكفي مطلقاً، والظاهر أنه في مسألتنا لا يصح عند الكل؛ لأن ذكر الاسم وحده لايصرفها عن المراد إلى غيره، بخلاف ذكر الاسم منسوباً إلى أب آخر، فإن فاطمة بنت أحمد لا تصدق على فاطمة بنت محمد، تأمل، وكذا يقال فيما لو غلط في اسمها، (قوله: إلا إذا كانت حاضرةً إلخ) راجع إلى المسألتين: أي فإنها لو كانت مشاراً إليها وغلط في اسم أبيها أو اسمها لا يضر؛ لأن تعريف الإشارة الحسية أقوى من التسمية؛ لما في التسمية من الاشتراك لعارض، فتلغو التسمية عندها، كما لو قال: اقتديت بزيد هذا فإذا هو عمرو، فإنه يصح". فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144107200208

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں