بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ذو القعدة 1441ھ- 02 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

نکاح سے پہلے طلاق


سوال

نکاح کیا نکاح سے پہلے طلاق واقع ہو جاتی ہے؟  حدیث سے حوالہ دیں!

جواب

حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ نکاح سے پہلے طلاق واقع نہیں ہوتی اسی وجہ سے فقہاءِ احناف سمیت تمام فقہاء نکاح سے پہلے تنجیزاً (غیر مشروط) طلاق کے قائل نہیں ہیں، البتہ اگر طلاق کوکسی ایسی شرط کے ساتھ معلق کردیا جائے جس میں نکاح کی طرف اضافت ہو تو  چوں کہ وہ شرط نکاح ہونے کے بعد پائی جائے گی، لہذا نکاح سے پہلے معلق کی گئی طلاق، نکاح کے بعد واقع ہوجائے گی اور یہ مسلک حدیث کی تعلیم کے منافی نہیں؛ کیوں کہ طلاق در حقیقت نکاح کے بعد ہی واقع ہوتی ہے، نہ کہ نکاح سے پہلے، جس کی نفی حدیث میں آئی ہے۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3 / 132):
"وأما التعليق بالملك فنحو أن يقول لأجنبية: إن تزوجتك فأنت طالق، وإنه صحيح عند أصحابنا حتى لو تزوجها وقع الطلاق، وعند الشافعي لايصح ولايقع الطلاق، واحتج بقول النبي صلى الله عليه وسلم: «لا طلاق قبل النكاح». والمراد منه التعليق؛ لأن التنجيز مما لايشكل؛ ولأن قوله: أنت طالق في التعليق بالملك تطليق؛ بدليل أن الطلاق عند وجود الشرط يقع به إذا لم يوجد كلام آخر سواه، فكان الكلام السابق تطليقًا، إلا أنه لم يثبت الحكم للحال للمانع وهو عدم الشرط. والتصرف لاينعقد تطليقًا إلا في الملك ولا ملك ههنا فلاينعقد.

(ولنا) أن قوله: أنت طالق ليس تطليقًا للحال، بل هو تطليق عند الشرط على معنى أنه علم على الانطلاق عند الشرط فيستدعي قيام الملك عنده لا في الحال، والملك موجود عند وجود الشرط؛ لأنّ الطلاق يقع بعد وجود الشرط. وأما الحديث فنقول بموجبه: أن «لا طلاق قبل النكاح»، وهذا طلاق بغير النكاح؛ لأنّ المتصرف جعله طلاقًا بعد النكاح على معنى أنه جعله علمًا على الانطلاق بعد النكاح لا أن يجعل منشئًا للطلاق بعد النكاح، أو يبقى الكلام السابق إلى وقت وجود النكاح؛ لأن الثاني محال، والأول خلاف الحقيقة، وإضافة الطلاق إلى الشرع لا إلى الزوج". فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105200862

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں