بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 25 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

نکاح سے قبل طلاق معلق کی ایک صورت


سوال

ایک شخص نے نکاح کی مجلس میں نکاح سے قبل اپنے مکمل ہوش وحواس میں لڑکی والوں کی طرف سے پیش کیے گئے ایک عہد نامہ کو پڑھ کر اس پر دستخط کیا، جس میں درج شرائط میں سے ایک شرط یہ ہوتی ہے  کہ میں ۔۔۔ ولد  ۔۔۔ یہ عہد کرتا ہوں کہ میں آئندہ ہیروئن وچرس نہیں پیوں گا،  اگر پیا تو میری بیوی کوتین طلاق۔ نکاح ہوجانے کے بعدبھی مذکورہ شخص ہیروئن وچرس کا نشہ کرتا ہے تو  اب اس کے نکاح کا شرعا کیا حکم ہے؟ 

جواب

واضح رہے کہ طلاق واقع ہونے کے لیے یہ  ضروری ہے کہ جس کو طلاق دی جارہی ہو وہ  عورت نکاح میں موجود ہو، یا اگر وہ نکاح میں موجود نہ ہو تو   ملک یا سببِ ملک  کی طرف نسبت کرکے طلاق دی گئی ہے مثلاً: اگر میں نے فلاں عورت سے نکاح کیا تو اس کو طلاق وغیرہ وغیرہ۔اگر وہ عورت نکاح میں موجود نہ ہو اور فوری طلاق دی گئی یا ملک یا سببِ  ملک کی طرف نسبت کیے بغیر معلق طلاق دی تو ایسی طلاق واقع نہیں ہوتی۔

ذکر کردہ صورت میں نکاح سے قبل جو الفاظ کہے گئے ہیں، ان  میں سببِ ملکِ  نکاح کی طرف نسبت نہیں کی گئی ؛ لہٰذا شرط پائے جانے کی صورت میں طلاق کا وقوع نہیں ہوگا۔

اللباب میں ہے:

"وإذا أضاف الطلاق إلى النكاح وقع عقيب النكاح، مثل أن يقول: إن تزوجتك فأنت طالقٌ، أو كل امرأة أتزوجها فهي طالقٌ، وإن أضافه إلى شرطٍ وقع عقيب الشرط، مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالقٌ.

 (وإذا أضافه) أي الطلاق (إلى) وجود (شرط وقع عقيب) وجود (الشرط) وذلك (مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق) ، وهذا بالاتفاق، لأن الملك قائم في الحال، والظاهر بقاؤه إلى وقت الشرط، ويصير عند وجود الشرط كالمتكلم بالطلاق في ذلك الوقت". (اللباب في شرح الكتاب ،کتاب الطلاق،(3/ 46)، ط: المكتبة العلمية، بيروت، لبنان) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144104200632

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے