بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

26 رمضان 1442ھ 09 مئی 2021 ء

دارالافتاء

 

نوکری کے لیے رشوت دینے کا حکم


سوال

موجودہ حالات کےپیشِ نظرغریبوں کے لیے کسی سرکاری ادارے میں نوکری کے لیے رشوت دینے کے بارےمیں اسلام کیا کہتا ہے؟

جواب

رشوت لینے اور دینے والے پر حضورِ اکرم ﷺ نے لعنت  فرمائی ہے، اس لعنت والے کام  سےبہر صورت  بچنا ضروری ہے؛ لہٰذا مذکورہ طریقے پر سرکاری نوکری حاصل کرنا شرعاً درست نہیں۔ حق ثابت ہونے سے پہلے اسے حاصل کرنے کے لیے رشوت دینا بہرحال ناجائز ہے۔اور جب تک ملازمت مل نہیں جاتی تب تک یہ ثابت شدہ حق نہیں ہے؛ اس لیے متبادل کوئی حلال ذریعہ آمدن تلاش کرنا چاہیے۔ فقط واللہ اعلم

 


فتوی نمبر : 144104200005

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں