بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

نماز کا فدیہ


سوال

 میرے والد فوت ہو چکے ہیں آ خری عمر میں دو دن کی نمازیں ضعف کی وجہ سے رہ چکی ہیں، ان کیا کیا حکم ہے ؟

جواب

اگر والد صاحب نے فدیہ کی وصیت کی ہے تو ان کے ترکہ کے تہائی میں سے ان کی طرف سے دو دن کی نمازوں کا فدیہ دینا واجب ہوگا۔ہر نماز کا فدیہ ایک صدقۃ الفطر کی مقدار  کے برابر ہے،  ایک دن کی چھ نمازیں ہیں وتر کے ساتھ ۔

اور اگر مرحوم نے فدیہ کی وصیت نہیں کی تو شرعاً ورثا پر فدیہ ادا کرنا لازم نہیں، البتہ اگر ورثا از خود باہمی رضامندی سے ادا کردیں تو امید ہے کہ مرحوم آخرت کی باز پرس سے بچ جائیں گے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200550

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے