بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

22 جُمادى الأولى 1441ھ- 18 جنوری 2020 ء

دارالافتاء

 

نماز میں بچوں کے آگے سے گزرنے کا حکم


سوال

اگر بچہ نماز پڑھ رہا ہو تو کیا اس کے آگے سے گزرسکتے ہیں؟ کیوں کہ بسا اوقات بچے ایسی جگہ نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں کہ ان کے آگے سے گزرنا ضروری ہوتا ہے، مثلاً وہ پچھلی صف میں ایسی جگہ ہوتے ہیں کہ اگلی صف میں جانے کی جگہ نہیں ہوتی ہے اور گزرنے کی صورت میں کیا اس بچے کے والدین گناہ گار ہوں گے جنہوں نے اسے کم عمری میں مسجد بھیجا ہے؟

جواب

اگر اگلی صف میں جانے کے لیے بچے کے آگے سے گزرنا ضروری ہو اور اس کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو گزرسکتے ہیں گناہ گار نہیں ہوں گے، بچہ خود ایسی جگہ کھڑا ہوا تو اس کے آگے سے گزرنے کی وجہ سے بچے کے والدین گناہ گار نہیں ہوں گے، بلا ضرورت بچوں کے آگے سے بھی نہ گزراجائے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200209

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے