بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 12 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

نماز میں ایک ہاتھ سے موبائل فون نکال کر دیکھنے اور بند کرنے کا حکم


سوال

کیا  نماز میں موبائل فون نکالنا اور اس کو دیکھ کر بند کرنا مفسد نماز ہے؟

جواب

نماز کے دوران عملِ  کثیر کا ارتکاب کرنے سے نماز فاسد ہوجاتی ہے، عملِ کثیر کی تعریف میں فقہاءِ کرام کے متعدد اقوال ہیں، مفتیٰ بہ اور راجح قول یہ ہے کہ کوئی ایسا کام کرنا کہ دور سے دیکھنے والے کو یقین ہوجائے  کہ یہ کام کرنے والا نماز نہیں پڑھ رہا، جس کام کی ایسی کیفیت نہ ہو وہ عملِ قلیل ہے اور عملِ قلیل سے نماز فاسد نہیں ہوتی، چنانچہ نماز کے دوران ایک ہاتھ سے موبائل نکال کر  مختصر وقت میں اسکرین دیکھنے اور  گھنٹی بند کردینے سےنماز فاسد تو نہیں ہوتی، البتہ نماز میں کراہت آجاتی ہے، لیکن اگر  دونوں ہاتھوں سے موبائل پکڑا،  یا ایک ہاتھ سے ایسے انداز میں پکڑ کر اسکرین کو دیکھا  کہ دور سے  دیکھنے والا یہ سمجھے کہ یہ شخص  نماز  نہیں پڑھ رہا ہے تو نماز فاسد ہوجائے گی، اس لیے  نماز سے پہلے ہی موبائل کی گھنٹی بند کردینی چاہیے؛ تاکہ نماز میں خلل نہ ہو، لیکن اگر بھول سے گھنٹی بند کرنا بھول گیا اور نماز میں گھنٹی بجنے لگی تو ایک ہاتھ جیب میں ڈال کر گھنٹی کو بند کردے، موبائل نکالنا اور اسے دیکھنا درست نہیں ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 624):

"(و) يفسدها (كل عمل كثير) ليس من أعمالها ولا لإصلاحها، وفيه أقوال خمسة أصحها (ما لايشك) بسببه (الناظر) من بعيد (في فاعله أنه ليس فيها) وإن شك أنه فيها أم لا فقليل".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 634):

"(ولايفسدها نظره إلى مكتوب وفهمه) ولو مستفهما وإن كره".فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144007200304

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے