بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شعبان 1441ھ- 06 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

نفلی صدقات والدین کو دینا


سوال

والدین کو نفلی صدقہ دینے کا حکم ہے؟

جواب

نفلی صدقات امیر اور غریب ہر شخص کو  دیے جاسکتے ہیں، البتہ بہتر یہ ہے ضرورت مند کو دیا جائے، اگر والدین ضرورت مند ہیں تو  نفلی صدقات ان کو دینا اس کا بہترین مصرف ہے، اگر والدین ضرورت مند  نہ ہوں تو بھی ان کو نفلی صدقات دینا جائز ہے، لیکن بہتر یہ ہے کہ صدقہ کی نیت سے الگ کی گئی رقم ضرورت مند کو دے دی جائے اور والدین کو ہدایا اور تحائف الگ دیے جائیں۔

"وأما صدقة التطوع فیجوز صرفها إلی الغنی لأنها تجري مجری الهبة". (بدائع الصنائع، ۲/48، ط: سعید)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105200130

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے