بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

نفلی حج والدین کی طرف سے کیا جائے یا اپنی طرف سے کرکے اس کا ثواب والدین کو پہنچایا جائے؟


سوال

ایک شخص نفلی حج کرنا چاہ رہا ہے تو اس کے لیے کیا افضل ہے کہ احرام باندھتے وقت والد یا والدہ  کی نیت کرے  یا پھر اپنی نیت کرے اور ایصالِ ثواب والد یا والدہ کو پہنچادے،  دونوں میں سے افضل کیا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ شخص اپنا فرض حج کرچکا ہے، اور اب نفلی حج ادا کرنا چاہ رہا ہے  تو اگر اس کے والدین پر حج فرض ہوچکا تھا، اور انہوں نے وصیت نہیں کی تھی تو ان میں جس پر حج فرض ہوا ہے اس کی طرف سے حجِ بدل ادا کرنا افضل ہے،  اس سے امید ہے کہ ان کا ذمہ فارغ ہوجائے گا، اور بیٹے کو بھی ثواب ملے گا، اس نفلی حجِ بدل میں صرف اتنا کافی ہے کہ آپ احرام باندھتے وقت اپنے والد یا والدہ کی طرف سے حجِ بدل کی نیت کرلیں، بقیہ سب اَرکان اسی طرح ادا کیے جائیں گے جیسے اپنے حج میں ادا کیے جاتے ہیں۔

اور اگر ان پر حج فرض نہیں ہوا تھا تب بھی ان کی طرف سے حج ادا کرنا زیادہ افضل ہے، احادیثِ مبارکہ میں والدین کی طرف سے حج کرنے پر اپنے حج کے ثواب کے ساتھ ساتھ   اس حج  کا ثواب  دس حج  کے برابر قرار دیا گیا ہے، اور قیامت کے دن اس کو نیک لوگوں کے ساتھ اٹھائے جانے کی بشارت وارد ہوئی ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 608):
"بخلاف ما لو أهل بحج عن أبويه أو غيرهما من الأجانب حال كونه (متبرعاً فعين بعد ذلك جاز)؛ لأنه متبرع بالثواب فله جعله لأحدهما أو لهما، وفي الحديث: «من حج عن أبويه فقد قضى عنه حجته، وكان له فضل عشر حجج، وبعث من الأبرار» .

[تنبيه] الذي تحصل لنا من مجموع ما قررناه أن من أهل بحجة عن شخصين، فإن أمراه بالحج وقع حجه عن نفسه ألبتة، وإن عين أحدهما بعد ذلك. وله بعد الفراغ جعل ثوابه لهما أو لأحدهما، وإن لم يأمراه فكذلك إلا إذا كان وارثاً وكان على الميت حج الفرض ولم يوص به فيقع عن الميت عن حجة الإسلام للأمر دلالة وللنص، بخلاف ما إذا أوصى به لأن غرضه ثواب الإنفاق من ماله، فلايصح تبرع الوارث عنه، وبخلاف الأجنبي مطلقاً لعدم الأمر (قوله: لأنه متبرع بالثواب) بيان لوجه صحة التعيين في مسألة الأبوين دون مسألة الآمر، وهو معنى ما قدمناه من قوله في الفتح: ومبناه على أن نيته لهما تلغو لعدم الأمر فهو متبرع إلخ. قال في الشرنبلالية قلت: وتعليل المسألة يفيد وقوع الحج عن الفاعل، فيسقط به الفرض عنه وإن جعل ثوابه لغيره، ويفيد ذلك الأحاديث التي رواها في الفتح بقوله اعلم أن فعل الولد ذلك مندوب إليه جداً. لما أخرج الدارقطني عن ابن عباس -رضي الله تعالى عنهما - عنه صلى الله عليه وسلم: «لمن حج عن أبويه أو قضى عنهما مغرماً بعث يوم القيامة مع الأبرار». وأخرج أيضاً عن جابر أنه عليه الصلاة والسلام قال: «من حج عن أبيه وأمه فقد قضى عنه حجته وكان له فضل عشر حجج». وأخرج أيضاً عن زيد بن أرقم قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا حج الرجل عن والديه تقبل منه ومنهما واستبشرت أرواحهما وكتب عند الله براً» ". اهـ.
أقول: قد علمت مما قررناه أنه إذا حج الوارث عنهما وعلى أحدهما فرض لم يوص به يقع عن الميت لسقوط الفرض عنه بذلك إن شاء الله تعالى. وحينئذ فكيف يصح دعوى سقوط الفرض به عن الفاعل أيضاً وقد صرفه إلى غيره وأجزنا صرفه، نعم يظهر ذلك فيما إذا كان على أحدهما فرض أوصى به أو لم يكن عليه فرض أصلاً، ويدل على ذلك قوله في الفتح: وإنما يجعل لهما الثواب وترتبه بعد الأداء، ومثله قول قاضي خان في شرح الجامع: وإنما يجعل ثواب فعله لهما. وهو جائز عندنا وجعل ثواب حجه لغيره لايكون إلا بعد أداء الحج، فبطلت نيته في الإحرام، فكان له أن يجعل الثواب لأيهما شاء اهـ فهذا صريح في أن النية لم تقع لهما وأن الأعمال وقعت له فله جعل ثوابها لمن شاء بعد الأداء، فيمكن ادعاء سقوط الفرض عن الفاعل بذلك كما حررناه في مسألة الحج عن الآمرين، وبه يعلم جواز جعل الإنسان ثواب فرضه لغيره كما ذكرناه أول الباب". 
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010200431

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے