بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 صفر 1442ھ- 01 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

نفاس والی عورت کا خون


سوال

اگر نفاس والی عورت کا خون 40دن سے کم میں بند ہوجائے، پھر وہ غسل کر کے نماز شروع کردے، لیکن 10دن بعد خون دوبارہ شروع ہو جائے تو کیا حکم ہے؟

جواب

نفاس کی زیادہ  سے زیادہ مدت 40  دن ہے، اس صورت میں بعد میں جو خون آیا ہے،اگر یہ ولادت کے 40 دنوں کے اندر آیا ہے تو ابھی تک نفاس جاری ہے اور اس عرصہ کی نمازیں لازم نہ ہوں گی۔یہ حکم اس وقت ہے جب کہ  یہ خون چالیس دن تک رک جائے۔

لیکن اگر خون چالیس دن کے بعد بھی جاری رہا تو دیکھا جائے گا کہ اگر خاتون کے ہاں پہلے کوئی اولاد ہوئی ہے جس کی بنا پر اس کی عادت مقرر تھی جس پر یہ پاک ہوگئی تھی ، لیکن  اس دفعہ خون چالیس  دن سے زیادہ ہوگیا تو صرف عادت کے ایام ہی نفاس شمار  ہوں گے، اس کے بعد کے دن استحاضہ کے ہوں گے، نفاس ختم ہونے کے بعد غسل کرکے ان دنوں کی نمازیں ادا کرنا لازم ہوں گی۔

اور اگر پہلے عادت مقرر نہیں تھی اور خون چالیس دن سے زیادہ آگیا تو چالیس دن نفاس کے اور باقی استحاضہ کے شمار ہوں گے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143908200604

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں