بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 20 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تجہیز، تکفین اور تدفین اور اس میں خلفاءِ راشدین رضوان اللہ علیہم کی شرکت


سوال

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی  تدفین کے وقت خلفاءِ  راشدین  کہاں  تھے?

جواب

سرورِ کائنات، آقائے نامدار  ﷺ نے جب اس عالمِ فانی سے عالمِ جاودانی کی طرف رحلت فرمائی اور رفیقِ اعلیٰ سے جاملے، اور یہ جان گداز اور روح فرسا واقعہ پیش آیا اس وقت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر غم و اندوہ کا پہاڑ ٹوٹ پڑا اور ایک  عجیب کیفیت اور سکتہ طاری ہوگیا تھا،  مختلف روایت اس سلسلے میں منقول ہیں، اس وقت اور اس کے بعد آپ ﷺ کی تجہیز وتکفین کے وقت دیگر صحابہ کرام سمیت خلفاءِ راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی وہاں موجود تھے،  اس واقعہ  اور  سیاق وسباق  کے واقعات سے اس کی تائید ہوتی ہے، اس کی کچھ تفصیل  یہ ہے:

آپ ﷺ  کی وفات سے ایک دن قبل آپ کی طبیعت میں کچھ افاقہ ہوا، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ صبح  کی نماز سے فارغ ہوکر  آپ ﷺ کے حجرہ مبارکہ  میں تشریف لے گئے،  آپ ﷺ کے چہرہ پر سکون دیکھا، چوں کہ یہ دن حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دو بیویوں میں سے ایک کی باری کا تھا جو مدینہ سے ایک کوس کے فاصلہ پر مقام سنح میں رہتی تھی، اس لیے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ ﷺ سے اجازت لے کر وہاں چلے گئے۔ اور دیگر صحابہ کرام بھی آپ کی اطمینان کی کیفیت دیکھ  کر اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔

پھر جب آپ ﷺ کی وفات کی  قیامت خیز  خبر  صحابہ کرام کے کانوں میں پہنچی تو  سب کے ہوش اڑ گئے، تمام مدینہ میں تہلکہ مچ گیا، حضرت عثمان ذو النورین  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  ایک سکتہ کے عالم میں آگئے، دیوار سے پشت لگائے بیٹھے تھے،  شدتِ غم کی وجہ سے بات نہیں کرسکتے تھے، حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ  کا یہ حال تھا  کہ زارو قطار روتے تھے، روتے روتے بے ہوش ہوگئے، اسی طرح حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ انتہائی پریشانی کے عالم میں  تلوار کھینچ کر کھڑے ہوگئے اور بلند آواز سے فرمانے لگے: منافقین کا گمان ہے حضور ﷺ انتقال کرگئے ہیں،  آپ ہرگز فوت نہیں ہوئے ہیں، بلکہ آپ اپنے پرودگار سے ملنے گئے ہیں ، آپ ضرور واپس آئیں گے، حضرت ابوبکر صدیق  رضی اللہ تعالی عنہ  جو مدینہ سے ایک کوس کے فاصلہ پر تھے، خبر  ملتے ہی سیدھا مدینہ تشریف لے آئے، انتہائی غم کی کیفیت میں حضرت عائشہ  رضی اللہ تعالی عنہا سے اجازت لے کر حجرہ مبارکہ میں تشریف لے گئے،  چہرہ انور سے چادر ہٹائی، پیشانی مبارک پر بوسہ دیا اور روئے، اور فرمایا: "وا نبیاه! وا خلیلاه! وا صفیاه"! (ملخص الاتحاف شرح احیاء 10/297)

بعد ازاں صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حجرہ مبارکہ سے باہر تشریف لائے، صحابہ کرام انتہائی پریشانی اور اضطراب کے عالم میں تھے، حضرت عمر  رضی اللہ تعالی عنہ  انتہائی جوش میں تھے،  صحابہ کرام حضرت ابوبکر صدیق  رضی اللہ تعالی عنہ  کے گرد جمع ہوگئے، اور اس موقع پر حضرت ابوبکر صدیق  رضی اللہ تعالی عنہ  نے انتہائی بلیغ، جامع اور مؤثر خطبہ دیا جس کی تفصیل سیرت کی کتابوں میں موجود ہے، اس خطبہ سے یک لخت حیرت کا عالم ختم ہوگیا۔  (اس کی تفصیل کےلیے سیرت مصطفی جلد 3، صفحہ176  کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔)

اس کے بعد اچانک یہ خبر ملی کہ انصار ، سقیفہ بنی ساعد میں جمع ہیں، اور آپﷺ کی جانشینی کا مسئلہ درپیش ہے، حضرت ابوبکر وعمر اوردیگر مہاجرین صحابہ کرام کو یہ خدشہ ہوا کہ مبادا  عجلت میں کسی ایسے شخص کے ہاتھ پر بیعت نہ ہوجائے جس سے فتنہ برپا ہو اور مسلمانوں کے لیے مصیبت نہ بن جائے آپ  رضی اللہ تعالی عنہ  حضرت عمر اور دیگر مہاجرین کے ساتھ وہاں تشریف لے گئے، اور وہ قضیہ حل ہونے کے بعد دوبارہ  تشریف لے آئے، حضرات اہلِ بیت آپ ﷺ کی تجہیز وتکفین کے انتظام میں مصروف تھے،  اور خود بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺنے حضرت علی  رضی اللہ تعالی عنہ  کو وصیت فرمائی تھی کہ ان کے علاوہ آپ ﷺ کو کوئی غسل نہ دے اور یہ کہ وہ (حضرت علی) اہلِ بیت کے تعاون سے آپ ﷺ کو غسل دیں؛   اس لیے غسل وغیرہ کا انتظام اہلِ بیت  رضوان اللہ علیم اجمعین نے سنبھالا ہوا تھا۔  جیساکہ ’’البدایہ والنھایہ‘‘  میں ہے :

"وقال البيهقي: وروى أبو عمرو بن كَيْسَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ بِلَالٍ سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ: أَوْصَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَايُغَسِّلَهُ أَحَدٌ غَيْرِي. فَإِنَّهُ لَايَرَى أَحَدٌ عَوْرَتِي إِلَّا طُمِسَتْ عَيْنَاهُ. قَالَ عَلِيٌّ: فَكَانَ العبَّاس وَأُسَامَةُ يُنَاوِلَانِي الْمَاءَ مِنْ وَرَاءِ السِّتْرِ". (البداية والنهاية ط إحياء التراث (5 / 282)

" وَقَدْ تَقَدَّمَ الْحَدِيثُ الَّذِي رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ مِنْ حَدِيثِ الْأَشْعَثِ بْنِ طَلِيقٍ، وَالْبَزَّارُ مِنْ حَدِيثِ الْأَصْبَهَانِيِّ كِلَاهُمَا عَنْ مُرَّةَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ: فِي وَصِيَّةِ النَّبيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلَّم أَنْ يُغَسِّلَهُ رِجَالُ أَهْلِ بَيْتِهِ، وَأَنَّهُ قَالَ: كفِّنوني في ثيابي هذه أو في يمانية أَوْ بَيَاضِ مِصْرَ، وَأَنَّهُ إِذَا كفَّنوه يَضَعُونَهُ عَلَى شَفِيرِ قَبْرِهِ، ثُمَّ يَخْرُجُونَ عَنْهُ حتَّى تُصَلِّيَ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ، ثُمَّ يَدْخُلُ عَلَيْهِ رِجَالُ أَهْلِ بَيْتِهِ فَيُصَلُّونَ عَلَيْهِ، ثُمَّ النَّاس بَعْدَهُمْ فُرَادَى.الْحَدِيثَ بِتَمَامِهِ وَفِي صِحَّتِهِ نَظَرٌ كَمَا قَدَّمْنَا". (البداية والنهاية ط إحياء التراث (5 / 285)

حضرت مولانا ادریس کاندہلوی صاحب اس واقعہ پر تحریر فرماتے ہیں:

”اگر کسی بادشاہ کا انتقال ہوجائے تو جب تک اس کا کوئی جانشین نہ ہوجائے اس وقت تک اس کی تجہیز وتکفین  کا انتظام نہیں کیا جاتا،  ایسے وقت میں تجہیز وتکفین کا مسئلہ اتنا اہم نہیں ہوتا جتنا جانشینی کا مسئلہ  اہم ہوتا ہے، خیرخواہانِ حکومت کو یہ  فکر ہوتی ہے کہ انتظامِ مملکت میں خلل نہ آئے، غنیم موقع پاکر بے خبری میں حملہ نہ کر بیٹھے، جس میں تمام ملک کی تباہی اور بربادی کا اندیشہ ہے،  بلکہ بسا اوقات بنظرِ مصلحت بادشاہ کی وفات تک کو چھپالیتے ہیں، اور جانشینی کے بعد اس کا اعلان کرتے ہیں، اور شیعہ حکومتوں میں بھی یہی قاعدہ ہے، اور اگر بادشاہ کے انتقال کے بعد سلطنت کے دو امیر ہوجائیں تو وہ سلطنت ضرور تباہ ہوجاتی ہے، ایک سلطنت کا دو امیر ہوجانا موجبِ خرابی اور باعثِ بربادی ہے، اور آپ ﷺ  کی وفات کے بعد منافقین اور کفار کی طرف سے غدر  اور شور و شر کا احتمال واندیشہ تھا، ایسے وقت میں شیرازۂ اسلام کی حفاظت اولین کام تھا،  بایں نظر شیخین (حضرت ابوبکر اور عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہما) نے یہ گمان کیا کہ تجہیز وتکفین کوئی مشکل کام نہیں ہے اور اہلِ بیت (گھروالوں) سے متعلق ہے، سب صحابہ کرام کا اس میں شریک ہونا ضروری نہیں ، غلامانِ اہلِ بیت بھی یہ خدمت انجام دے سکتے ہیں ۔۔۔  نیز تمام صحابہ کرام کو یہ معلوم تھا کہ وفات سے  انبیاءِ کرام کےاجسامِ مبارکہ میں کوئی تغیر نہیں آتا، اس لیے تاخیر دفن کا کوئی اندیشہ نہ کیا اور کمال دانش مندی سے  فتنہ اور فساد کا دروازہ بند کردیا اور مسلمانوں کو افتراق سے بچالیا‘‘۔(سیرت مصطفی 3/182، ط: کتب خانہ مظہری)

اس کے بعد حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر اور دیگر صحابہ کرام بھی واپس تشریف لائے، آپ ﷺ کو غسل حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ نے  حضرت عباس رضی اللہ عنہ، اور ان کے دو صاحبزادے حضرت فضل وحضرت قثم اور حضرت اسامہ وشقران رضی اللہ  عنہم کے تعاون سے دیا۔

ان تمام واقعات سے معلوم ہوتا ہےکہ چاروں خلفاء راشدین اس وقت وہیں موجود تھے، جہاں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کی وصیت اور اہلِ بیت ہونے کے ناطے  آپ ﷺ کی تجہیز وتکفین میں عملاً مصروف تھے، وہیں  حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کے جانشین ہونے کے ناطے اس کا انتظام سنبھالے ہوئے تھے، جیسا کہ ماقبل میں ذکر ہوا کہ آپ ﷺ کی وفات کا اعلان اور اس کے بعد ایک بلیغ خطبہ اور پھر بعد میں پیش آنے والے دیگر امور (تدفین کی جگہ کا انتخاب، قبر اور جنازے کا طریقہ وغیرہ ) سب  آپ کی راہ نمائی ہی سے کیے گیے، جیساکہ ’’البدایہ والنھایہ‘‘ میں ہے :

"قَدْ قَدَّمْنَا أَنَّهُمْ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ اشْتَغَلُوا بِبَيْعَةِ الصِّدِّيقِ بَقِيَّةَ يَوْمِ الِاثْنَيْنِ وَبَعْضَ يَوْمِ الثُّلَاثَاءِ، فَلَمَّا تَمَهَّدَتْ وَتَوَطَّدَتْ وَتَمَّتْ، شَرَعُوا بَعْدَ ذَلِكَ فِي تَجْهِيزِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلَّم مُقْتَدِينَ فِي كُلِّ مَا أَشْكَلَ عَلَيْهِمْ بِأَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ". (البداية والنهاية ط إحياء التراث (5 / 280)

اور جب یہ  معاملہ آیا کہ  آپ ﷺ  کی تدفین کہاں کی جائے؟ اور صحابہ کرام اور اہلِ  بیت رضوان اللہ علیہم اجمعین اس معاملہ میں مضطرب ہوئےتو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہی اس کی راہ نمائی کی کہ میں نے آپ ﷺ سے سنا ہے کہ نبی علیہ السلام کا جہاں انتقال ہو، اسی جگہ دفن کیا جائے۔  اور آپ رضی اللہ عنہ کی ہدایت کے مطابق آپ ﷺ  کی وفات والی جگہ ہی آپ کی قبر بنائی گئی ۔

"أَنَّ أَصْحَابَ النَّبيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلَّم، لم يدروا أين يقبروا النَّبيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلَّم؟ حتَّى قَالَ أَبُو بَكْرٍ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لم يقبرني إلا حيث يموت، فأخَّروا فراشه وحفروا تَحْتَ فِرَاشِهِ صلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَهَذَا فِيهِ انْقِطَاعٌ بَيْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ جُرَيْجٍ وَبَيْنَ الصِّدِّيقِ فَإِنَّهُ لَمْ يُدْرِكْهُ، لَكِنْ رَوَاهُ الْحَافِظُ أَبُو يَعْلَى: مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عبَّاس وَعَائِشَةَ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ. فَقَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى الْهَرَوِيُّ، ثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَائِشَةَ. قَالَتْ: اخْتَلَفُوا فِي دَفْنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قُبِضَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: سَمِعْتُ النَّبيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلَّم يَقُولُ: " لَايُقْبَضُ النَّبيّ إِلَّا فِي أَحَبِّ الْأَمْكِنَةِ إِلَيْهِ" فَقَالَ ادْفِنُوهُ حَيْثُ قُبِضَ. وَهَكَذَا رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ عَنْ أَبَى كُرَيْبٍ عَنْ أَبَى مُعَاوِيَةَ عَنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الْمُلَيْكِيِّ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْتَلَفُوا فِي دَفْنِهِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: سمعت من رسول الله شَيْئًا مَا نَسِيتُهُ، قَالَ: " مَا قَبَضَ اللَّهُ نَبِيًّا إِلَّا فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي يُحِبُّ أَنْ يُدْفَنَ فِيهِ". ادْفِنُوهُ فِي مَوْضِعِ فِرَاشِهِ. ثُمَّ إِنَّ التِّرمذي ضعَّف الْمُلَيْكِيَّ، ثُمَّ قَالَ: وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ، رَوَاهُ ابْنُ عبَّاس عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ عَنِ النَّبيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلَّم". (البداية والنهاية ط إحياء التراث (5 / 287)

اسی طرح اس موقع پر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ بھی مشورہ میں موجود تھے، جیسا کہ جب  یہ معاملہ آیا کہ آپ ﷺ کی قبر  کون سی کھودی جائے، آیا لحد (بغلی قبر) بنائی جائے یا شگاف والی قبر  (جو ہمارے ہاں بنائی جاتی ہے) کھودی جائے؟  تو مہاجرین نے کہا کہ اہلِ مکہ کے طرز پر ’’شق‘‘  تیار کی جائے ، جب کہ انصار نے کہا کہ اہلِ مدینہ کے طریقہ پر ’’لحد ‘‘  تیار کی جائے۔ اس موقع پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجمع کو خطاب کرکے فرمایا: آپ ﷺ کے قریب  شور نہ کرو، اور آوازیں بلند نہ کرو، جیساکہ آپ کی زندگی میں آپ کے قریب شور نہیں کرسکتے، اس طرح آپ ﷺ کی رحلت کے بعد بھی آپ ﷺ کے قریب شور شرابہ نہ کرو، بلکہ شق اور لحد دونوں قسموں کی قبر تیار کرنے والے کے پاس آدمی  بھیج دو، جو پہلے آجائے وہ قبر تیار کردو۔ چناں چہ  ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پہلے تشریف لےآئے اور آپ ﷺ کی لحد  طرز پر قبر تیار ہوئی ۔

"وَقَالَ ابْنُ مَاجَهْ أَيْضًا: حدثنا عمر بن شبة عن عُبَيْدَةَ بْنِ زَيْدٍ   ثَنَا عُبَيْدُ بْنُ طُفَيْلٍ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، حَدَّثَنِي ابن أبي مليكة عن عائشة.قالت: لَمَّا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْتَلَفُوا فِي اللَّحْدِ وَالشَّقِّ، حتَّى تَكَلَّمُوا فِي ذَلِكَ وَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمْ. فَقَالَ عُمَرُ: لَاتَصْخَبُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيًّا وَلَا مَيِّتًا - أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا -، فَأَرْسَلُوا إِلَى الشقَّاق وَاللَّاحِدِ جَمِيعًا فَجَاءَ اللَّاحِدُ، فَلَحَدَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ دفن، تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ مَاجَهْ". (البداية والنهاية ط إحياء التراث (5 / 289)

اسی طرح حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں ماقبل میں ذکر ہوا کہ وہ وہیں موجود تھے، لیکن سکتہ کے عالم میں آگئے تھے، دیوار سے پشت لگائے بیٹھے تھے،  شدتِ غم کی وجہ سے بات نہیں کرسکتے تھے۔

پھر آپ ﷺ کی نمازِ جنازہ  آپ ﷺ کی وصیت (کہ تجہیز و تکفین اور قبر کھودنے کے بعد اولاً سب حجرے سے نکل جائیں، پہلے فرشتے نماز ادا کریں گے، پھر اہلِ بیتِ کرام اور پھر دیگر مسلمان) اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ کی ہدایت پر (جیسا کہ روایات میں ہے) گروہ در گروہ کرکے پڑھی گئی، ایک جماعت داخل ہوتی وہ نمازِ جنازہ  پڑھ کر نکل جاتی، اس کے بعد دوسری جماعت آتی اور وہ جنازہ پڑھتی۔  چناچہ ایک  روایت میں ہے کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما  مہاجرین وانصار کی ایک جماعت کے ساتھ حجرۂ نبوی میں داخل ہوئے اور جنازہ نبوی کے سامنے کھڑا ہوکر سلام کیا، اور مہاجرین وانصار نے بھی سلام کیا، پھر   حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے آپ کے جنازہ مبارکہ کے سامنے  یہ کہا :

"اللَّهُمَّ إِنَّا نَشْهَدُ أَنَّهُ قَدْ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ، وَنَصَحَ لِأُمَّتِهِ، وجاهد في سيبل الله حتَّى أعزَّ الله دِينَهُ وَتَمَّتْ كَلِمَتُهُ، وَأُومِنَ بِهِ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، فَاجْعَلْنَا إِلَهَنَا مِمَّنْ يَتَّبِعُ الْقَوْلَ الَّذِي أُنْزِلَ مَعَهُ، وَاجْمَعْ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ حتَّى تُعَرِّفَهُ بِنَا وَتُعَرِّفَنَا بِهِ، فَإِنَّهُ كَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رؤوفا رحيماً، لانبتغي بالإيمان به بديلاً، وَلَانَشْتَرِي بِهِ ثَمَنًا أَبَدًا".

” اے اللہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے وہ سب کچھ پہنچادیا جو ان  پر اتارا گیا، اور آپ ﷺ نے امت کی خیر خواہی کی، اور اللہ کے راستے میں جہاد کیا،  یہاں تک کہ اللہ نے اپنے دین کو غالب کیا، اور اس کا بول بالا ہوا، اور صرف ایک معبود وحدہ لاشریک پر ایمان لایا گیا۔ اے اللہ!  ہم کو ان لوگوں میں سے بنا  جو آپ ﷺ پر نازل کردہ وحی کی اتباع کرتے ہیں، اور ہم کو آپ ﷺ کے ساتھ جمع کر، آپ ہم کو اور ہم آپ کو پہچانیں،  آپ مسلمانوں پر بڑے مہربان تھے،ہم اپنے ایمان کا کوئی معاوضہ اور قیمت نہیں چاہتے “۔

 لوگوں نے آمین کہی، جب مرد نماز جنازہ سے فارغ ہوگئے  تو عورتوں نے،عورتوں کے  بعد بچوں نے اس طرح ادا کیا۔

"قَالَ الْوَاقِدِيُّ: حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: وَجَدْتُ كِتَابًا بِخَطِّ أَبِي، فِيهِ أَنَّهُ لَمَّا كفِّن رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوُضِعَ عَلَى سَرِيرِهِ، دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، وَمَعَهُمَا نَفَرٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ بِقَدْرِ مَا يَسَعُ الْبَيْتُ.فَقَالَا: السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبيّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، وسلَّم الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ كَمَا سلَّم أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ ثُمَّ صُفُّوا صُفُوفًا لَا يَؤُمُّهُمْ أَحَدٌ. فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ - وَهُمَا فِي الصَّفِّ الْأَوَّلِ حِيَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: اللَّهُمَّ إِنَّا نَشْهَدُ أَنَّهُ قَدْ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ، وَنَصَحَ لِأُمَّتِهِ، وجاهد في سيبل الله حتَّى أعزَّ الله دِينَهُ وَتَمَّتْ كَلِمَتُهُ، وَأُومِنَ بِهِ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، فَاجْعَلْنَا إِلَهَنَا مِمَّنْ يَتَّبِعُ الْقَوْلَ الَّذِي أُنْزِلَ مَعَهُ، وَاجْمَعْ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ حتَّى تُعَرِّفَهُ بِنَا وَتُعَرِّفَنَا بِهِ، فَإِنَّهُ كَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رؤوفا رحيماً، لا نبتغي بالإيمان به بديلاً، وَلَا نَشْتَرِي بِهِ ثَمَنًا أَبَدًا. فَيَقُولُ النَّاس: آمِينَ آمِينَ وَيَخْرُجُونَ وَيَدْخُلُ آخَرُونَ حتَّى صَلَّى الرِّجَالُ، ثُمَّ النِّسَاءُ، ثُمَّ الصِّبْيَانُ۔(البداية والنهاية ط إحياء التراث (5 / 286)

لہذا اس سے معلوم ہوا کہ چاروں خلفاء راشدین آپ ﷺ کی تدفین کے وقت موجود تھے اور انہوں  نے آپ ﷺ کے جنازہ میں شرکت بھی فرمائی۔ نیز  بعض اہلِ باطل کی طرف سے یہ مشہور کیا جاتا ہے کہ خلفاء راشدین آپ ﷺ کی تدفین میں شامل نہیں تھے اور انہوں نے آپ ﷺ کے جنازہ میں شرکت نہیں کی ، مذکورہ تفصیل سے ان کی بات کا جھوٹ ہونا بھی ثابت ہوگیا۔

المستدرك على الصحيحين للحاكم (3 / 62):
" عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قال: لما ثقل رسول الله صلى الله عليه وسلم قلنا: من يصلي عليك يا رسول الله فبكى وبكينا وقال: «مهلاً، غفر الله لكم، وجزاكم عن نبيكم خيراً، إذا غسلتموني وحنطتموني وكفنتموني فضعوني على شفير قبري، ثم اخرجوا عني ساعة، فإن أول من يصلي علي خليلي وجليسي جبريل وميكائيل، ثم إسرافيل، ثم ملك الموت مع جنود من الملائكة، ثم ليبدأ بالصلاة علي رجال أهل بيتي، ثم نساؤهم، ثم ادخلوا أفواجاً أفواجاً وفرادى ولاتؤذوني بباكية، ولا برنة ولا بصيحة، ومن كان غائباً من أصحابي فأبلغوه مني السلام، فإني أشهدكم على أني قد سلمت على من دخل في الإسلام، ومن تابعني على ديني هذا منذ اليوم إلى يوم القيامة»".
 فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144012201078

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے