بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 صفر 1442ھ- 24 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

گھر پر ناجائز قبضہ کر کے اس کو فروخت کرنا


سوال

میری ماں نے ایک مکان خریدا اپنے ذاتی پیسوں سے (سلائی وغیرہ کر کے) اس میں میرے  باپ کا ایک پیسہ بھی نہیں لگا، اس کے گواہ ہم سارے بہن بھائی ہیں اور قریبی محلے دار بھی گواہ ہیں اور اب جب کہ میرا باپ ماں کو طلاق دے چکا ہے(ماں میری معذور ہیں) باپ مکان پر قبضہ کر کے بیچنا چاہتا ہے تو  کیا اس مکان پر میرے باپ کا حق ہے؟  کیا وہ اس کو بیچ سکتا ہے?

جواب

بصورتِ صدقِ واقعہ مذکورہ مکان چوں کہ سائل کی والدہ نے اپنے پیسوں سے اپنے لیے خریدا ہے؛ لہٰذا اس پر ملکیت بھی سائل کی والدہ  کی ہی ہوگی،  سائل کے والد  کو نہ گھر پر قبضہ کرنے کا حق ہے اور نہ فروخت کرنے کا حق ہے۔ اور قبضہ کر کے گھر بیچنے کی صورت میں سائل کے والد سخت گناہ گار ہوں گے اور حاصل ہونے والی رقم ان کے لیے حلال نہیں ہوگی۔

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أخذ شبراً من الأرض ظلماً؛ فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين»". (مشكاة المصابيح، 1/254، باب الغصب والعاریة، ط: قدیمی)

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے ایک بالشت برابر زمین بھی ظلماً لی (یعنی غصب کی)، قیامت کے دن اُسے سات زمینوں کا طوق ڈالا جائے گا۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 233)ط:دار الکتب العلمیة:

"وأما حكم البيع......(أما) الحكم الأصلي، فالكلام فيه في موضعين: في بيان أصل الحكم، وفي بيان صفته.(أما) الأول: فهو ثبوت الملك للمشتري في المبيع، وللبائع في الثمن للحال". فقط و الله أعلم


فتوی نمبر : 144111200940

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں