بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 19 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

نابالغ بچیوں کو پڑھاتے ہوئے قطرے نکل جانے کی صورت میں وضو، غسل اور روزہ کا حکم


سوال

 اگر کوئی نابالغ بچیوں کو پڑھاتا ہو اور اس دوران ان کے چہرے کو یا جسم کے کسی حصے کو چھوتا ہو اس چھونے کے دوران اگر کوئی قطرے نکل جائیں ان کو کیا کہیں گے مذی یا ودی؟ اور ان قطروں کا کیا حکم ہے؟ کیا اس سے روزے میں کوئی فرق تو نہیں پڑتا؟

جواب

’’منی‘‘  وہ کہلاتی ہےجو  کود کر شہوت اور لذت کے ساتھ  خارج ہو تی ہے خواہ جماع کے وقت ہو یا اس کے  علاوہ کسی حالت میں ہو ،اس صورت میں غسل واجب ہے ۔جب کہ مذی پتلی سفیدی مائل ہوتی ہےاور اس کے نکلنے کا احساس بھی نہیں ہوتا، اس کے نکلنے پر شہوت قائم رہتی ہے اور جوش کم نہیں ہوتا۔(عمدۃ الفقہ)

منی کے علاوہ مذی یاودی کے قطرے نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتاہے،غسل لازم نہیں ہوتا، اور روزہ بھی نہیں ٹوٹتا، البتہ شہوت کے ساتھ مادہ منویہ نکلنے سے غسل واجب ہوجاتاہے، اور روزہ بھی ٹوٹ جاتاہے، ایک روزے کی قضا اور سچے دل سے توبہ و استغفار لازم ہے۔

  مذی یا ودی کے قطرے جسم یا کپڑے پر لگ جائیں تو اس جگہ کو دھو کر پاک کرنا ہوگا۔

تاہم یہ واضح رہے کہ نابالغ بچیوں کو پڑھانے میں اگر فتنہ کا اندیشہ ہو جیسا کہ سوال میں تفصیل ذکر ہے تو ایسی صورت میں بچیوں کو پڑھانا جائز نہیں ۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008201362

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے