بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

27 جُمادى الأولى 1441ھ- 23 جنوری 2020 ء

دارالافتاء

 

نابالغ بچہ یا بچی قتل کرلیں تو کیا سزا ہے؟


سوال

نابالغ بچہ یا بچی قتل کرے انجانے میں یا جان بوجھ کر تو اس کی سزا کیا ہوگی؟

جواب

نابالغ بچہ یا بچی انجانے میں یا جان بوجھ کر  کسی  کو قتل کردیں تو ان سے قصاص  نہیں لیا جائے گا، اور نہ ہی کفارہ لازم ہوگا، البتہ ان کے عاقلہ پر دیت لازم ہوگی۔

في الدر:

"(وَعَمْدُ الصَّبِيِّ وَالْمَجْنُونِ) وَالْمَعْتُوهِ (خَطَأٌ) بِخِلَافِ السَّكْرَانِ وَالْمُغْمَى عَلَيْهِ  (وَعَلَى عَاقِلَتِهِ الدِّيَةُ) إنْ بَلَغَ نِصْفَ الْعُشْرِ فَأَكْثَرَ وَلَمْ يَكُنْ مِنْ الْعَجَمِ وَإِلَّا فَفِي مَالِهِ دُرَرٌ (وَلَا كَفَّارَةَ وَلَا حِرْمَانَ إرْثٍ) خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ، وَلَوْ جُنَّ بَعْدَ الْقَتْلِ قُتِلَ وَقِيلَ: لَا وَتَمَامُهُ فِيمَا عَلَّقْته عَلَى الْمُلْتَقَى".
وفي الرد:

" (قَوْلُهُ: خَطَأً) أَيْ فِي حُكْمِ الْخَطَأِ فِي وُجُوبِ الْمَالِ (قَوْلُهُ: بِخِلَافِ السَّكْرَانِ وَالْمُغْمَى عَلَيْهِ) كَذَا فِي الْقُهُسْتَانِيِّ، وَالظَّاهِرُ أَنَّ الْمُرَادَ السَّكْرَانُ بِغَيْرِ مُبَاحٍ زَجْرًا لَهُ، وَإِلَّا فَالْعَمْدُ لَا بُدَّ فِيهِ مِنْ الْقَصْدِ وَالسَّكْرَانُ بِمُبَاحٍ لَا قَصْدَ لَهُ وَلَا زَجْرَ عَلَيْهِ تَأَمَّلْ، وَكَذَا يُقَالُ فِي الْمُغْمَى فَإِنَّهُ لَا قَصْدَ لَهُ كَالنَّائِمِ بَلْ هُوَ أَشَدُّ، وَأَيْضًا فَالصَّبِيُّ لَهُ قَصْدٌ بِالْجُمْلَةِ، وَقَدْ جُعِلَ عَمْدُهُ خَطَأً فَهَذَا أَوْلَى  فَتَأَمَّلْ وَرَاجِعْ. وَفِي الْأَشْبَاهِ: السَّكْرَانُ مِنْ مُحَرَّمٍ مُكَلَّفٌ، وَإِنْ مِنْ مُبَاحٍ فَلَا فَهُوَ كَالْمُغْمَى عَلَيْهِ (قَوْلُهُ: وَعَلَى عَاقِلَتِهِ) الْأَوْلَى عَاقِلَتِهِمَا (قَوْلُهُ: إنْ بَلَغَ) الْأَوْلَى بَلَغَتْ (قَوْلُهُ: نِصْفَ الْعُشْرِ) هُوَ خَمْسُمِائَةٍ فِي الرَّجُلِ وَمِائَتَانِ وَخَمْسُونَ فِي الْمَرْأَةِ قُهُسْتَانِيٌّ (قَوْلُهُ: وَإِلَّا فَفِي مَالِهِ) أَيْ بِأَنْ لَمْ تَبْلُغْ نِصْفَ الْعُشْرِ، فَإِنَّهُ يُسْلَكُ فِيهِ مَسْلَكَ الْأَمْوَالِ زَيْلَعِيٌّ، أَوْ كَانَ مِنْ الْعَجَمِ فَإِنَّ الْمُخْتَارَ فِيهِمْ أَنَّهُ لَا عَاقِلَةَ لَهُمْ سَيَأْتِي (قَوْلُهُ: وَلَا كَفَّارَةَ) ؛ لِأَنَّهُمَا لَا ذَنْبَ لَهُمَا تَسْتُرُهُ وَحِرْمَانُ الْإِرْثِ عُقُوبَةٌ وَلَيْسَا مِنْ أَهْلِهَا . [الدر مع الرد : ٦/ ٥٨٦-٥٨٧]  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144007200217

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے