بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

نابالغ بچہ کا صدقہ فطر کیوں لازم ہے ؟


سوال

 جب نابالغ صاحبِ نصاب نہیں تو اس کی طرف سےصدقہ فطرکیوں لازم ہوتا ہے؟

جواب

بچہ کے پاس اگر مال ہوتو وہ اس کا مالک ہوتا ہے، البتہ اس پر زکاۃ واجب نہیں ہوتی ہے، لیکن صدقہ فطر واجب ہونے کے لیے بالغ یا عاقل ہونا شرط نہیں، بلکہ اگربچہ  نصاب کا مالک ہو تو اس کے مال سے صدقہ فطر نکالا جائے، اگر اس کا مال نہ ہو  اور اس کا والد صاحبِ نصاب ہو تو اس کے والد پر اپنے اور اپنے نابالغ بچوں کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرنا واجب ہوگا، اگر ان کا اپنا مال ہو تو والد ان کے مال میں سے بھی ادا کرسکتا ہے، اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہر آزاد، غلام ، چھوٹے اور بڑے کی طرف سے صدقہ فطر کی ادائیگی کا حکم دیا ہے۔اور ہر  غلام، آزاد، مرد، عورت اور چھوٹے بڑے پر صدقہ فطر کو واجب قرار دیا ہے۔

"عن ابن عمر قال : فرض رسول الله صلى الله عليه و سلم زكاة الفطر صاعا من تمر أو صاعا من شعير على العبد والحر والذكر والأنثى والصغير والكبير من المسلمين وأمر بها أن تؤدى قبل خروج الناس إلى الصلاة". (مشکاۃ المصابیح)

"عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم النَّاسَ قَبْلَ الْفِطْرِ بِيَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ فَقَالَ: « أَدُّوا صَاعًا مِنْ بُرٍّ أَوْ قَمْحٍ بَيْنَ اثْنَيْنِ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ عَنْ كُلِّ حُرٍّ وَعَبْدٍ وَصَغِيرٍ وَكَبِيرٍ". (دار قطني زكاة الفطر ۲۱۴۱)

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 71):
"ويخرج عن، أولاده الصغار وإذا كانوا فقراء لقوله صلى الله عليه وسلم: «أدوا عن كل صغير وكبير». ولأن نفقتهم واجبة على الأب وولاية الأب عليهم تامة".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 359):
"(على كل) حر (مسلم) ولو صغيراً مجنوناً، حتى لو لم يخرجها وليهما وجب الأداء بعد البلوغ (ذي نصاب فاضل عن حاجته الأصلية) كدينه وحوائج عياله (وإن لم يتم) كما مر. 

(قوله: ولو صغيراً مجنوناً) في بعض النسخ: أو مجنونا بالعطف بأو وفي بعضها بالواو، وهذا لو كان لهما مال، قال في البدائع.
وأما العقل والبلوغ فليسا من شرائط الوجوب في قول أبي حنيفة وأبي يوسف، حتى تجب على الصبي والمجنون إذا كان لهما مال ويخرجها الولي من مالهما، وقال محمد وزفر: لاتجب فيضمنها الأب والوصي لو أدياها من مالهما اهـ وكما تجب فطرتهما تجب فطرة رقيقهما من مالهما، كما في الهندية والبحر عن الظهيرية. (قوله: حتى لو لم يخرجها وليهما) أي من مالهما. ففي البدائع أن الصبي الغني إذا لم يخرج وليه عنه فعلى أصل أبي حنيفة وأبي يوسف أنه يلزمه الأداء؛ لأنه يقدر عليه بعد البلوغ. اهـ.قلت: فلو كانا فقيرين لم تجب عليهما بل على من يمونهما كما يأتي. والظاهر أنه لو لم يؤدها عنهما من ماله لا يلزمهما الأداء بعد البلوغ والإفاقة لعدم الوجوب عليهما". 
 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008201059

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے