بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 15 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

نابالغ اور بالغ پر حج کی قربانی کا حکم


سوال

حج پر نابالغ بچے اور بچیاں جارہی ہیں، گھر والوں کا کہنا ہے کہ ان کو بھی حج کرانا ہے۔  اب سوال یہ ہے کیا جیسے بالغ مرد عورت قربانی بھی کرتے ہیں، کیا ان کی طرف سے بھی قربانی کرنی ہوگی یا نہیں؟

جواب

نابالغ  بچے  یا بچی پر عید الاضحٰی کی قربانی لازم نہیں ہے، اسی طرح  ان پر حجِ تمتع یا قران کرنے صورت میں دمِ شکر (کی قربانی)بھی لازم نہیں ہے، اس لیے کہ نابالغ کا حج نفلی ہوتا ہے، اور وہ اَحکامات کا مکلف کا نہیں ہوتا۔ البتہ استطاعت کی صورت میں اگر ثواب کی نیت سے والد ان کی طرف سے بھی قربانی کردے تو یہ منع بھی نہیں ہے، بلکہ ثواب کا کام ہے۔

باقی بالغ مرد یا عورت پر حج کی قربانی لازم ہونے کی تفصیل یہ ہے :

قربانی دو طرح کی ہوتی ہے:

(1)  ایک قربانی تو وہ ہے جو  صاحبِ نصاب مقیم شخص پر واجب ہوتی ہے خواہ حج کرنے جائے یا نہ جائے، اگر حاجی صاحبِ نصاب ہے اور  قربانی کے دنوں میں مکہ مکرمہ میں مقیم ہے یعنی منیٰ جانے سے پہلے مکہ مکرمہ میں پندرہ دن اس کا قیام ہو  یا مستقل وہیں رہتا ہے،  تو اس پر یہ قربانی واجب ہے، اور اسے اختیار ہے کہ  چاہے تو مکہ مکرمہ یا مدینہ مٰیں  قربانی کا انتظام کرے یا اپنے وطن میں قربانی کی رقم بھیج دے یا وطن میں کسی کو قربانی کرنے کا کہہ دے، البتہ منیٰ میں قربانی کرنے کا ثواب پوری دنیا کی تمام جگہوں سے زیادہ ہے۔ 

(2)  دوسری قربانی سے مراد "دمِ شکر" ہے، یہ حجِ قِران (حج اور عمرہ دونوں کی اکٹھے نیت کرکے اداکرنا)اور تمتع(عمرہ مکمل کرکے احرام کھول کر ایامِ حج میں حج کی نیت کرنا) کرنے والوں  پر ایامِ نحر  (10،11،12 ذوالحجہ) میں  حلق (سرمنڈوانے) یا بال کٹوانے سے پہلے منیٰ یا حدود حرم میں واجب ہے۔حجِ افراد  (صرف حج) کرنے والوں پر یہ قربانی واجب نہیں ہے۔

حاصل یہ ہوا کہ حجِ  افراد کی صورت میں مقیم اور صاحبِ نصاب ہونے کی صورت میں صرف  پہلی قسم کی قربانی واجب ہوگی، اور اگر مقیم نہ ہو یا استطاعت نہ ہوتو کچھ بھی واجب نہیں ہوگا ، اور قارن (حج قران کرنے والے) اور متمتع (حجِ تمتع کرنے والے) پر مقیم اور صاحبِ نصاب ہونے کی صورت میں دو نوں قسم کی قربانیاں لازم ہوں گی، ورنہ صرف دوسری قسم یعنی دمِ شکر لازم ہوگی۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010200608

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے