بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 15 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

نابالغی میں انتقال کرجانے والے بچوں کا حکم


سوال

نابالغ بچوں کے انتقال کے بعد ان کے جسم اور روح کے ساتھ قبر اور برزخی زندگی میں کیا معاملہ ہوتا ہے؟ اور یہ کہ ان کے والدین کے انتقال کے بعد ان فوت شدہ بچوں کی ملاقات والدین سے کب ہوگی؟

جواب

مسلمانوں کی نابالغ اولاد کو انتقال کے بعدجنت میں ٹھکانہ دیاجاتاہے ۔

جیساکہ مشکوۃ شریف میں ہے :

’’حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا راوی ہیں کہ میں نے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا، یا رسول اللہ (جنت و دوزخ کے سلسلہ میں) مسلمان بچوں کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اپنے باپوں کے تابع ہیں، یعنی وہ اپنے باپوں کے ساتھ جنت میں ہیں.  میں نے عرض کیا:  یا رسول اللہ بغیر کسی عمل کے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے ‘‘۔

تفسیر مظہری میں ہے :

’’واما أولاد المسلمين فلم يجر فيهم خلاف، بل الإجماع أنهم فى الجنة، واللّه أعلم". (1/2141)

تفسیر الدرالمنثور میں ہے :

’’وأخرج أحمد، وَابن أبي الدنيا في العزاء ، وَابن أبي داود في البعث ، وَابن حبان والحاكم وصححه والبيهقي في البعث عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أولاد المؤمنين في جبل في الجنة، يكفلهم إبراهيم وسارة عليهما السلام، حتى يردهم إلى آبائهم يوم القيامة.

وأخرج سعيد بن منصور عن مكحول أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : إن ذراري المسلمين في عصافير خضر في شجر في الجنة، يكفلهم إبراهيم عليه السلام". (1/614)

البتہ اولادِ کفار کے بارے میں احادیث  مختلف ہیں، اسی وجہ سے علماء کی آراء بھی اولادِ  کفار کے بارے میں مختلف ہیں، بعض علماء نے فرمایا : اگربلوغت کے بعد ان کا مسلمان ہونا اللہ کے علم میں ہوگا تو جنت میں جائیں گے اور اگربلوغت کے بعد ان کاکافرہونا اللہ کے علم میں ہوگا تو وہ جہنم میں جائیں گے۔ البتہ امام نووی رحمہ اللہ اور دیگرمحققین نے اس کوراجح قراردیاہے کہ اولادکفارجوبلوغت سے پہلے دنیاسے چل بسے وہ اہلِ جنت میں سے ہیں۔ بعض علماء کے نزدیک وہ اہلِ جنت کے خادم ہوں گے۔

مشکوۃ شریف میں ہے :

’’حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکوں کی اولاد کے بارے  میں پوچھا گیا ( کہ مرنے کے بعد دوزخ میں جائیں گے یا جنت میں)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ ہی بہتر جانتا ہے (اگر زندہ رہتے تو وہ کیا عمل کرتے)‘‘۔

مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’آیت{ولاتزر وازرة وّزرَ اخریٰ}کے تحت تفسیرِمظہری میں لکھاہے کہ اس آیت سے ثابت ہوتاہے کہ مشرکین وکفارکی اولاد جوبالغ ہونے سے پہلے مرجائیں ان کو عذاب نہ ہوگا؛ کیوں کہ ماں باپ کے کفرسے وہ سزاکے مستحق نہیں ہوں گے‘‘۔(معارف القرآن5/457،ط:مکتبہ معارف القرآن)[فتاویٰ دارالعلوم دیوبند12/211،ط:دارالاشاعت کراچی)

امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے تعارضِ ادلہ  کی وجہ سے نیز احادیث کی روشنی میں اولاد مشرکین کے بارے میں توقف کیاہے۔

2۔اہلِ ایمان کی بالغ اور نابالغ اولاد قیامت کے دن اپنے آباؤاجداد کے ساتھ ملادی جائے گی، جیساکہ قرآن کریم سے ثابت ہے، نیز وہ بچے جو نابالغی میں انتقال کرگئے وہ آخرت میں اپنے والدین کی سفارش کا ذریعہ بھی بنیں گے ۔تفسیر قرطبی میں ہے :

"قوله تعالى: {وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُمْ} قرأ العامة (وأتبعتهم) بوصل الألف وتشديد التاء وفتح العين وإسكان التاء. وقرأ عمرو (وأتبعناهم) بقطع الألف وإسكان التاء والعين ونون، اعتباراً بقوله: (أَلْحَقْنا بِهِمْ)، ليكون الكلام على نسق واحد. فأما قوله: (ذُرِّيَّتُهُمْ) الأولى فقرأها بالجمع ابن عامر وأبو عمرو ويعقوب ورواها عن نافع إلا أن أبا عمرو كسر التاء على المفعول وضم باقيهم. وقرأ الباقون (ذُرِّيَّتُهُمْ) على التوحيد وضم التاء وهو المشهور عن نافع. فأما الثانية فقرأها نافع وابن عامر وأبو عمرو ويعقوب بكسر التاء على الجمع. الباقون (ذريتهم) على التوحيد وفتح التاء. واختلف في معناه، فقيل عن ابن عباس أربع روايات: الأولى أنه قال: إن الله ليرفع ذرية المؤمن معه في درجته في الجنة وإن كانوا دونه في العمل لتقر بهم عينه، وتلا هذه الآية. ورواه مرفوعاً النحاس في (الناسخ والمنسوخ) له عن سعيد بن جبير عن ابن عباس أن رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قال: (إن الله عز وجل ليرفع ذرية المؤمن معه في درجته في الجنة وإن كان لم يبلغها بعمله لتقر بهم عينه) ثم قرأ: {وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُمْ بِإِيمانٍ} الآية. قال أبو جعفر: فصار الحديث مرفوعاً عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وكذا يجب أن يكون، لأن ابن عباس لايقول هذا إلا عن رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لأنه إخبار عن الله عز وجل بما يفعله وبمعنى أنه أنزلها جل ثناؤه. الزمخشري: فيجمع الله لهم أنواع السرور بسعادتهم في أنفسهم، وبمزاوجة الحور العين، وبمؤانسة الإخوان المؤمنين، وباجتماع أولادهم ونسلهم بهم. وعن ابن عباس أيضاً أنه قال: إن الله ليلحق بالمؤمن ذريته الصغار الذين لم يبلغوا الايمان، قاله المهدوي. والذرية تقع على الصغار والكبار، فإن جعلت الذرية ها هنا للصغار كان قوله تعالى: (بِإِيمانٍ) في موضع الحال من المفعولين، وكان التقدير (بِإِيمانٍ) من الآباء. وإن جعلت الذرية للكبار كان قوله: (بِإِيمانٍ) حالاً من الفاعلين. القول الثالث عن ابن عباس: أن المراد بالذين آمنوا المهاجرون والأنصار والذرية التابعون. وفي رواية عنه: إن كان الآباء أرفع درجةً رفع الله الأبناء إلى الآباء، وإن كان الأبناء أرفع درجةً رفع الله الآباء إلى الأبناء، فالآباء داخلون في اسم الذرية".(17/67)

روح المعانی میں ہے :

"وروي عن الحبر والضحاك أنهما قالا: إن اللّه تعالى يلحق الأبناء الصغار وإن لم يبلغوا زمن الإيمان بآبائهم المؤمنين ، وجعل بإيمان عليه متعلقا بألحقنا أي ألحقنا بسبب إيمان الآباء بهم ذريتهم الصغار الذين ماتوا ولم يبلغوا التكليف فهم في الجنة مع آبائهم قيل : وكأن من يقول بذلك يفسر: {اتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُمْ}  بماتوا ودرجوا على أثرهم قبل أن يبلغوا الحلم، وجوز أن يتعلق بإيمان باتبعتهم على معنى اتبعوهم بهذا الوصف بأن حكم لهم به تبعا لآبائهم فكانوا مؤمنين حكما لصغرهم وإيمان آبائهم ، والصغير يحكم بإيمانه تبعاً لأحد أبويه المؤمن".(14/33) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008200036

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے