بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ربیع الثانی 1441ھ- 10 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

میں نے کپڑوں کے پیسے دیے تو طلاق


سوال

زید نے اپنی بیوی کو کہا: میں نے کپڑوں کے پیسے دیے تو طلاق ۔ اب زید نے اپنی ماں کو پیسے دے کر کہا: یہ ان کپڑوں کے پیسے ہیں، تو کیا طلاق ہوجائے گی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں طلاق سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ زید اپنی ماں کو ان پیسوں کا مالک بنا دے، (یعنی ماں کو پیسے دیتے ہوئے یہ نہ کہے کہ میں یہ پیسے کپڑوں کے لیے دے رہاہوں) پھر ماں اپنی مرضی سے کپڑوں کے پیسے ادا کردے، اس طور پر کرنے سے طلاق واقع نہ ہوگی۔

لیکن اگر زید نے بیوی کے کپڑوں کے پیسے ادا کرنے کے لیے ماں کو پیسے یہ کہہ  کر دیے کہ "یہ ان کپڑوں کے پیسے ہیں" ایسی صورت میں پیسوں کی ادائیگی میں ماں اپنے بیٹے کی وکیلہ قرار پائیں گی، اور وکیل کا تصرف شرعاً موکل کا تصرف شمار ہوتا ہے؛  لہذا اس صورت میں طلاق واقع ہوجائے گی، پس اگر شوہر نے ایک طلاق معلق کی تھی تو ایک طلاقِ رجعی واقع ہو جائے گی، دورانِ عدت شوہر کو رجوع کا حق حاصل ہوگا، اور رجوع نہ کرنے کی صورت میں عدت مکمل ہوتے ہی نکاح ختم ہوجائے گا، تاہم باہمی رضامندی سے نئے مہر کی تعیین کے ساتھ تجدیدِ نکاح کی اجازت ہوگی، بہر صورت آئندہ شوہر کو صرف دو طلاق کا حق حاصل ہوگا، البتہ اگر شوہر نے تین طلاق معلق کی ہوں تو ماں کے ذریعہ پیسوں کی ادائیگی کے ساتھ ہی تینوں طلاق واقع ہوجائیں گی، اور بیوی حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوجائے گی، رجوع جائز نہ ہوگا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ نکاح بھی حلال نہ ہوگا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012200293

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے