بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 21 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

طلاق کی خبر سے طلاق کا حکم


سوال

ایک شخص نے اپنے بھائی سے کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دیا ہے، اسے اس کے ماں باپ کے گھرلے جاؤ اور وہ لے گیا، کیا اس سے طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں شوہر نے جو جملہ کہا ’’میں نے اپنی بیوی کو طلاق دیا ہے‘‘ اس کا حکم یہ ہے کہ اگر شوہر نے اس سے پہلے طلاق دی ہو اور اسی طلاق کی اطلاع اپنے بھائی کو دینا مقصود ہو تو پہلے جتنی طلاقیں دی تھیں وہ واقع ہوں گی، اور اگر مذکورہ جملہ کہنے سے پہلے اپنی بیوی کو کوئی طلاق نہ دی، بلکہ جھوٹی اطلاع دی ہو  تب بھی ایک طلاقِ رجعی واقع ہوجائے گی۔

حاشية رد المحتار على الدر المختار - (3 / 295):
"(قوله: فهو إقرار منه بحرمتها) عبارة البزازية: قال في المحيط: فهذا إقرار منه بحرمتها عليه في الحكم اهـ وأفاد قوله: "في الحكم" أي في القضاء أنها لاتحرم ديانةً إذا لم يكن حرمها من قبل كما لو أخبر بطلاقها كاذبًا". 
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105200983

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں