بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 20 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

ڈاکٹر کے لیے میڈیسن کمپنی کا ہدیہ لینا


سوال

کیا میڈیسن کمپنی کا گفٹ لینا جائز ہے؟ 

جواب

اگر میڈیسن کمپنی کسی  ڈاکٹر کو کوئی ہدیہ دیتی ہے اور اس ہدیہ کی وجہ سے ڈاکٹر مریضوں کو اسی کمپنی کی ایسی دوائی لکھتا ہے جو مکمل طور پران کےموافق نہ ہو تو اس کمپنی کا ہدیہ لینا جائز نہ ہو گا،  بلکہ یہ رشوت کہلانے کے لائق ہو گا،  لہذا اگر کسی ڈاکٹر کو اس بات کا اندیشہ ہو کہ کمپنی کا ہدیہ قبول کرنے سے ایسے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں تو اس ہدیہ کو قبول کرنا درست نہیں ہے۔

اور اگر کمپنی کوئی ہدیہ ڈاکٹر کو صرف اپنی دوائی کی تشہیر کے لیے دیتی ہے اور  اس کے کوئی منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ نہ ہو یعنی اس کمپنی کی دوا معیاری اور مریض کے لیے زیادہ مناسب ہو تو ایسے ہدیہ کا قبول کرنا جائز ہے. فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010200443

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے