بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 صفر 1442ھ- 25 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

میوزک پر مشتمل حمد یا نعت سننے کا حکم


سوال

آج کل اکثر حمد اور نعتیہ کلام میں میوزیکل افیکٹس یا ایکو کا استعمال کیا جاتا ہے یا اس سے بھی بڑھ کے آلات موسیقی کا استعمال کیا جاتا ہے، ان کو بنانے اور سننے کے بارے میں کیا حکم ہے?

جواب

میوزک یا اس کے آلات بنانا، اس کا استعمال کرنا اور اس کا سننا نا جائز اور حرام ہے، خواہ وہ میوزک گانوں کے ساتھ ہو یا حمد و نعتیہ کلمات کے ساتھ، لہذا اگر کوئی نعت یا نظم ایسی ہو کہ اس کے پیچھے میوزک بج رہا ہو تو اس کو بنانا بھی نا جائز ہے اور اس کا سننا بھی ناجائزہے، باقی جہاں تک  ایکو کا تعلق ہے تو  ایکو چوں کہ میوزک میں داخل نہیں؛ اس لیے جس نظم میں صرف ایکو کا استعمال کیا گیا ہو اس کے سننے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143908201016

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں