بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو القعدة 1441ھ- 07 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

میسج پر بیوی کو میری طرف سے تم آزاد ہو کہنا


سوال

میرے بھائی نے بھابھی کو دورانِ حمل میسج پر یہ کہہ دیا کہ اب میرا تم سے کوئی رشتہ نہیں، میری طرف سے تم آزاد ہو ، جب کہ اس کا طلاق کا کوئی ارادہ نہیں تھا،  محض دھمکی تھی،  آیا طلاق واقع ہوگئی ؟  اس بات کو آٹھ مہینے ہوگئے بھابھی سے کوئی لنک نہیں۔

اگر طلاق واقع ہوچکی ہے تو کیا ان کی عدت طلاق نامہ دینے کے بعد شروع ہوگی؟َ

جواب

واضح رہے کہ لفظِ آزاد وقوعِ طلاق کے اعتبار سے صریح ہے،  یعنی لفظِ  آزاد سے دی گئی طلاق نیت کے بغیر ہی  واقع ہو جائے گی، جیسا کہ صریح کا حکم ہے، جب کہ لحوق کے اعتبار سے بائن ہے؛ لہٰذا آپ کے بھائی نے جب یہ الفاظ کہے ہیں کہ میری طرف سے تم آزاد ہو  تو ان الفاظ سے ایک طلاقِ صریح بائن واقع ہوچکی ہے، نکاح ٹوٹ چکاہے۔  مذکورہ عورت عدت کے بعد  دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے، البتہ  باہمی رضا مندی سے  گواہوں کی موجودگی میں نئے مہرکے ساتھ دوبارہ نکاح ہوسکتاہے۔  دوبارہ نکاح کی صورت میں آئندہ  کے  لیے آپ کے بھائی کو دوطلاق کاحق حاصل ہوگا۔

عدت ان الفاظ کے کہنے کے بعد سے ہی شروع ہوچکی تھی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 247):
"(قوله: ما لم يستعمل إلا فيه) أي غالباً، كما يفيده كلام البحر. وعرفه في التحرير بما يثبت حكمه الشرعي بلا نية، وأراد بما اللفظ أو ما يقوم مقامه من الكتابة المستبينة أو الإشارة المفهومة فلا يقع بإلقاء ثلاثة أحجار إليها أو بأمرها بحلق شعرها وإن اعتقد الإلقاء والحلق طلاقاً كما قدمناه؛ لأن ركن الطلاق اللفظ أو ما يقوم مقامه مما ذكر، كما مر (قوله: ولو بالفارسية) فما لايستعمل فيها إلا في الطلاق فهو صريح يقع بلا نية"۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 252):
"(قوله: فيقع بلا نية؛ للعرف) أي فيكون صريحاً لا كناية، بدليل عدم اشتراط النية وإن كان الواقع في لفظ الحرام البائن؛ لأن الصريح قد يقع به البائن، كما مر، لكن في وقوع البائن به بحث سنذكره في باب الكنايات، وإنما كان ما ذكره صريحاً؛ لأنه صار فاشياً في العرف في استعماله في الطلاق، لايعرفون من صيغ الطلاق غيره، ولا يحلف به إلا الرجال، وقد مر أن الصريح ما غلب في العرف استعماله في الطلاق بحيث لايستعمل عرفاً إلا فيه من أي لغة كانت، وهذا في عرف زماننا كذلك، فوجب اعتباره صريحاً، كما أفتى المتأخرون في "أنت علي حرام" بأنه طلاق بائن؛ للعرف بلا نية، مع أن المنصوص عليه عند المتقدمين توقفه على النية".
 فقط واللہ اعلم

نوٹ : مذکورہ سوال کا جواب ان الفاظ کی حد تک ہے جوآپ کے بھائی نے میسج پر کہے آپ نے سوال میں طلاق نامہ کا ذکر کیا ہے، اگر ان الفاظ کے کہنے کے بعد کوئی طلاق نامہ بھی دیا گیا ہے تو اس کی تفصیلات جاننے کے بعد ہی صحیح جواب دیا جاسکے گا ۔


فتوی نمبر : 144102200293

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں