بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 شوال 1441ھ- 31 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

میزان بینک میں سیونگ اکاونٹ


سوال

میزان بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھولنا جائز ہے، اس میں منافع لینا سود ہے؟

جواب

جس طرح سود لینا اور استعمال کرنا ناجائز ہے،  اپنی رضامندی اور اختیار سے سود کا معاہدہ کرنا بھی ناجائز ہے۔ میزان بینک یا کسی بھی بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھلوانے میں چوں کہ سودی معاہدہ ہوتا ہے؛ لہذا میزان بینک سمیت کسی بھی بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھلوانا ہی جائز نہیں ہے۔ شدید مجبوری ہو تو کرنٹ اکاونٹ کھلوانے کی اجازت ہے۔ اگر لاعلمی میں سیونگ اکاؤنٹ کھول لیا ہو یا اپنے اختیار کے بغیر ادارے نے کھول دیا ہو تو اولاً اسے کرنٹ اکاؤنٹ میں تبدیل کردیا جائے اور  اصل رقم پر اضافہ وصول نہ کیا جائے۔ اور اگر فی الحال کرنٹ اکاؤنٹ میں تبدیل کرنا ممکن نہ ہو تو سودی/ منافع کی رقم وصول ہی نہ کی جائے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105200997

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے