بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 25 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

میزان بینک سے گاڑی لینا


سوال

میں ایک مروجہ غیر سودی بینک سے گاڑی لینا چاہتا ہوں،  کیا اس میں سود ہے؟ اور جو مفتیان حضرات اسے جائز کہتے ہیں وہ صحیح ہے یا غلط ہے؟

جواب

مروجہ غیر سودی بینکوں سے گاڑی لینا شرعاً درست نہیں، یہ سودی معاملہ ہے؛  لہذا اس سے اجتناب ضروری ہے۔

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل فتوی ملاحظہ فرمائیں:

میزان بینک سے قسطوں پر گاڑی لینا

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201014

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے