بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 14 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

" میرا تمہارا کوئی  تعلق نہیں" کہنے سے طلاق کا حکم


سوال

میں نے اپنی بیوی سے ایک بحث کے دوران غصے میں کہا:  ’’میرا تمہارا کوئی  تعلق نہیں‘‘ کیا اس سے طلاق واقع ہوگئی؟  جب کہ میری نیت طلا ق کی نہیں تھی۔

جواب

اگر مذکورہ الفاظ ’’میرا تمہارا کوئی تعلق نہیں‘‘ طلاق  کی  نیت  سے  کہے جائیں تو اس سے ایک طلاقِ بائن واقع ہو جاتی ہے، جس کی وجہ سے رجوع جائز نہیں ہوتا، تاہم عدت کے دوران یا عدت مکمل ہونے کے بعد باہمی رضامندی سے سے نئے مہر کے ساتھ  گواہوں کی موجودگی میں تجدیدِ  نکاح جائز ہوتا ہے،  لیکن صورتِ مسئولہ میں چوں کہ مذکورہ الفاظ بقول آپ کے طلاق کے ارادہ سے نہیں کہے تھے تو کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، نکاح بدستور قائم ہے۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"ولو قال: لم يبق بيني وبينك شيء، ونوى به الطلاق لايقع. وفي الفتاوى: لم يبق بيني وبينك عمل ونوى يقع، كذا في العتابية". (8/329) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012200365

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے