بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 ربیع الثانی 1441ھ- 05 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

میراث سے متعلق سوالنامہ


سوال

ہمارے معزز والد مرحوم، موسی خان کا 25 اپریل 2002 کو انتقال ہوا، ان کی ایک بیوی اور پانچ بچے (3 بیٹے اور 2 بیٹیاں) تھے. 16 دسمبر 1994 کو اس کی ایک بیٹی فوت ہو گئی اور اس کا ایک بیٹا بھی تھا، اس وقت ہمارے والد مرحوم زندہ تھے. براہِ کرم آپ مندرجہ ذیل سوالات کا جواب دے سکتے ہیں؟:

1. ہمارے والد مرحوم کی میراث کس طرح اپنی بیوی اور بچوں کے درمیان تقسیم کی جائے گی؟

2. میری بہن، جو فوت ہو گئی تھی والد مرحوم کے زندگی میں، اس کا جو ایک لڑکا پیچھے رہ گیا تھا، جس کا نام عبدالماجد خان ہے، کیا وہ میرے والد مرحوم کی وراثت کے حصہ کا حق دار ہو گا؟

3. میرے دادا مرحوم کا 1960 ء میں انتقال ہوا جس دوران میرے والد مرحوم اور 4 چچا اور 1 پھوپھی زندہ تھے. بعد میں دادا مرحوم کی وراثت کی تقسیم کے دوران، عبدالماجد خان کا نام میرے والد مرحوم، میرے 4 چچا اور 1 پھوپھیاور ان کے بچوں کی وراثت میں شامل کر دیا گیا پاکستان زمین رجسٹری دفتر کی جانب سے، جوکہ صدر ایوب خان کے مقرر کردہ قانون کے مطابق ہے، یعنی کہ جن کے والدین دادا دادی سے پہلے فوت ہو جائیں تو جب دادا دادی فوت ہوں تو پوتے پوتی کو اپنے فوت شدہ والدین کی جگہ میں دادا دادی کی میراث میں حصہ دار ہونے کا حق ہوتا ہے۔ کیا عبدالماجد خان میرے والد مرحوم، 4 چچا اور 1 پھوپھی کی میراث میں حصہ کا حق رکھتا ہے؟، خصوصاً جب کہ ان کے تمام اولاد علاوہ میری بہن مرحومہ کے باقی سب زندہ ہیں۔

جواب

1. صورتِ مسئولہ میں مرحوم کی جائیداد تقسیم کرنے کا طریقہ کار یہ ہے کہ اولاً مرحوم کی جائیداد میں سے اُن کی تجہیز و تکفین کے اخراجات ادا کیے جائیں گے، اگر کوئی قرضہ ہو تو اُس کو کل ترکہ میں سے ادا کیا جائے گا، اس کے بعد اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اس کو ایک ثلث (تہائی) میں سےادا کیا جائے گا، اس کے بعد کل جائےداد منقولہ و غیر منقولہ کو 8 حصوں میں تقسیم کر کے1 حصہ مرحوم کی بیوہ کو، 2 حصے ہر ایک بیٹے کو اور ایک حصہ   بیٹی کو ملے گا۔

یعنی فی صد کے اعتبار سے 12.5 فی صد مرحوم کی بیوہ کو، ہر ایک بیٹے کو 25 فی صد اور بیٹی کو 12.5فی صد ملے گا۔

واضح رہے کہ مذکورہ تقسیم اُس صورت میں ہے جب آپ کی کل دو بہنیں ہوں اور ان میں سے ایک کا انتقال 1994 میں ہو گیا ہو اور بعد میں ایک بہن بچی ہو۔

2. عبد الماجد خان آپ کے والد کی میراث کا حق دار نہ ہو گا۔

3. عبد الماجد خان آپ کے والد مرحوم، 4 چچا اور 1پھوپھی کی میراث میں شرعاً  حصہ کا حق نہیں رکھتا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200792

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے