بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ربیع الثانی 1442ھ- 04 دسمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

میراث سے متعلق ایک مسئلہ کی وضاحت


سوال

میں نے آپ سے ایک سوال کیا تھا اس کا 144107200589 آپ مجھے فتوی نمبر میں دے چکے ہیں مجھے معلوم یہ کرنا تھا یہ حساب پرسنٹیز میں کیسے نکالنا پڑیگا.یہ سمجھادیں۔

سابقہ سوال اور جواب درج ذیل ہے:

سوال

میرے والد صاحب کے والد کا ایک گھر ہے اور میری دادی ابھی حیات ہیں، میری دادی اس گھر کا بٹوارہ کرنا چاہتی ہیں.میرے والد صاحب چار بھائی اور پانچ بہنیں ہیں اور ایک میری دادی خود ہیں.مکان کی مالیت.25 لاکھ ہے تو اس رقم کی کس طرح تقسیم ہوگی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں دادا مرحوم کے ترکہ سے حقوقِ  متقدمہ (قرض، وصیت وغیرہ) کی ادائیگی کے بعد باقی ترکہ میں سے (25 لاکھ روپے کے حساب سے) 312,500.00 (تین لاکھ بارہ ہزار پانچ سو) روپے مرحوم کی بیوہ (آپ کی دادی) کو، 336,538.46 (تین لاکھ چھتیس ہزار پانچ سو اڑتیس روپے چھیالیس پیسے) اس کے ہر بیٹے (آپ کے والد اور ہر چچا) کو اور 168,269.23 (ایک لاکھ اڑسٹھ ہزار دو سو انہتر روپے تئیس پیسے) اس کی ہر بیٹی (آپ کی ہر ایک پھوپھی) کو ملیں گے۔ فقط واللہ اعلم

نوٹ : یہ تقسیم اس صورت میں ہے جب کہ مرحوم کے انتقال کے وقت اس کے ورثاء میں ایک بیوہ، چار بیٹے اور پانچ بیٹیاں تھے۔ اگر کوئی وارث اس وقت زندہ تھا اور اب موجود نہیں ہے یا سوال میں اس کا ذکر نہیں ہے تو دوبارہ تفصیل ارسال کرکے سوال کرلیں۔

 

فتوی نمبر : 144107200589

جواب

مذکورہ مسئلہ میں مرحوم کے کل منقولہ وغیر منقولہ ترکہ کے 104 حصے کرکے مرحوم کی بیوہ کو 13 حصے، مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو  14،14 حصے، اور ہر ایک بیٹی کو 7، 7 حصے ملیں گے۔

یعنی فیصد کے اعتبار سے 100 میں سے مرحوم کی بیوہ کا  12/5  فیصد، مرحوم کے ہر ایک بیٹے کا  13/46  فیصد اور ہر ایک بیٹی کا 6/73 فیصد حصہ ہوگا۔

اب 2500000 میں ہر ایک فیصد  وہی بنے گا جو آپ کو پہلے سوال میں بتایا گیا ہے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144107200795

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں