بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ربیع الثانی 1441ھ- 11 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

میراث: بیوہ، دو بیٹے، چھ بیٹیاں


سوال

  ہماری وراثت کی جائے داد  میں ایک مکان اور اْس کے نیچے تین دوکانیں ہیں، دوکانیں کرایہ پر ہیں اور جن سے مجموعی کرایہ 60000 ساٹھ ہزار ماہانہ ملتا ہے، ہم وارثین میں ایک والدہ، دو بھائی، اور 6 بہنیں ہیں، مکان میں کبھی والدہ رہتی ہیں اور کبھی بند رہتا ہے۔ ماں کی آمدن کا کوئی ذریعہ نہیں ہے، ایک بھائی ذہنی / جسمانی کمزور /ان پڑھ ہے اس کی دیکھ بھال ماں کو کرنی پڑتی ہے۔ ہم میں سے کچھ کی رائے ہے اس آمدن کو برابر تقسیم کردیں یعنی 60000 تقسیم 9 افراد کے فارمولے سے کے ہر فرد کا ایک جتنا حصہ ملے؟ کیا آمدن کا کوئی مخصوص حصہ ماں اور اْس بیٹے کے لیے وراثت اس آمدن سے مقرر کیا جاسکتا ہے ؟ سوال یہ ہے کے دوکانوں کی آمدن کو ان حالات میں کس فارمولے(تناسب) سے تقسیم کریں ؟ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ جائیداد آپ کے والدِ مرحوم کا ترکہ ہے تو اس کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار یہ ہے کہ مرحوم کی کل جائیداد منقولہ و غیر منقولہ میں سے مرحوم کے حقوقِ متقدمہ  یعنی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالنے اور اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرضہ ہو (مثلاً بیوی کا مہر وغیرہ) تو قرضہ کی ادائیگی کے بعد، اور اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی مال میں سے وصیت کو نافذ کرنے کے بعد باقی کل جائیداد منقولہ و غیر منقولہ کو ۸۰ حصوں میں تقسیم کرکے اس میں سے ۱۰ حصے مرحوم کی بیوہ (یعنی آپ کی والدہ) کو، ۱۴ حصے مرحوم کے ہر بیٹے کو اور ۷ حصے مرحوم کی ہر بیٹی کو ملیں گے۔

ساٹھ ہزار (۶۰۰۰۰) روپے میں سے سات ہزار پانچ سو (۷۵۰۰) روپے مرحوم کی بیوہ کو، دس ہزار پانچ سو (۱۰۵۰۰ ) روپے مرحوم کے ہر بیٹے کو اور پانچ ہزار دو سو پچاس (۵۲۵۰ ) روپے مرحوم کی ہر بیٹی کا حصہ بنتا ہے۔ یہ مقدار ہر ایک وارث کا شرعی حق ہے، البتہ اگر تمام یا بعض ورثاء اپنے حصہ میں سے کچھ کم کر کے آمدن میں سے اپنی والدہ یا معذور بھائی کو ان کے شرعی حصے سے کچھ زیادہ دینا چاہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144007200305

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے