بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو القعدة 1441ھ- 11 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

بھتیجوں، بھتیجیوں، بھانجوں اور بھانجیوں میں وراثت کی تقسیم


سوال

زہرہ کے چار بھائی اور چار بہنیں تھیں،  سب کے سب وفات پا چکے ہیں،  لیکن سب کی اولاد موجود ہیں, زہرہ غیر شادی شدہ تھی, اپنے زندگی میں زہرہ نے کچھ زمین ایک بھائی کے بچوں کے نام کی تھی. اب زہرہ وفات پا گئی ہیں، اس کی وراثت کی وضاحت درکار ہے.

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر زہرہ کے والدین حیات نہیں ہیں تو زہرہ کے بھتیجے (یعنی بھائیوں کے بیٹے) ہی اس کے وارث بنیں گے، زہرہ کا ترکہ صرف اس کے بھتیجوں کے درمیان میراث کے ضابطہ شرعی کے موافق تقسیم ہوگا۔

جو زمین زہرہ نے ایک بھائی کے بچوں کے نام کی تھی، اگر وہ زمین زہرہ نے اپنی زندگی میں ہی ہبہ (گفٹ) کی نیت سے ان بھتیجوں کے نام کر کے ان کو اس زمین کا مکمل قبضہ اور تصرف کا اختیار دے دیا تھا تو اب وہ زمین زہرہ کا ترکہ نہیں ہوگی، اس زمین کے مالک زہرہ کے وہی بھتیجے ہوں گے جن کے نام وہ زمین کی تھی۔ لیکن اگر زہرہ نے وہ زمین اپنے ایک بھائی کے بیٹوں کے نام ہبہ کی نیت سے نہیں کی تھی یا ہبہ کی نیت سے نام پر کرنے کے باوجود اس زمین کا مکمل قبضہ اور تصرف کا اختیار ان بھتیجوں کو نہیں دیا تھا تو وہ زمین وفات تک زہرہ ہی کی ملکیت میں رہی اور اب وہ زمین زہرہ کا ترکہ شمار ہوگی اور زہرہ کے دیگر ترکہ کے ساتھ تمام ورثاء میں تقسیم ہوگی۔

زہرہ کی بھتیجیاں (بھائیوں کی بیٹیاں) ، بھانجے اور بھانجیاں (بہنوں کے بیٹے اور بیٹیاں) زہرہ کے وارث نہیں بنیں گے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144104200608

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں